پمز سانحے کے ذمہ دار کسی ایک آدمی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وزیر صحت
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پمز سانحہ کے حوالے سے جو فیصلے ہوں گے شواہد کی بنیاد پر ہوں گے۔ وزیراعظم کی جانب سے کمیٹی قائم کردی گئی ہے، جو ذمہ دار ہوگا کسی ایک آدمی کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے، پارلیمانی کمیٹی کو ٹائم باؤنڈ نہ کریں۔
قومی اسمبلی کا اجلاس قائم مقام اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں شروع ہوا۔ شازیہ مری نے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 26 اگست کو پمز ہسپتال میں دلخراش سانحہ پیش آیا، اسمبلی کا بزنس رول 288 کے تحت معطل کیا جائے اور تمام ارکان کو اس اہم سانحے پر بحث کا موقع دیا جائے۔
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران قائم مقام اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام پارلیمانی جماعتوں کے اراکینِ قومی اسمبلی آج اجلاس سے قبل اسپیکر چیمبر میں آ کر 26 اگست 2026 کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرسری میں پیش آنے والے سانحے پر… pic.twitter.com/XjMwnajZTg
— National Assembly 🇵🇰 (@NAofPakistan) August 28, 2026
ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ تمام ممبران چیمبر میں آئے تھے، آج کے دن صرف اس سانحے پر بحث ہوگی۔ سانحہ پمز پر قومی اسمبلی کا ایجنڈا معطل کردیا گیا، ایوان کی کارروائی معطل کرنے کی تحریک وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے پیش کی۔ سانحہ پمز میں بچوں کے والدین کے لیے دعا بھی کی گئی۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ بہت بڑا حادثہ ہے، حادثہ چیز ہی ایسی ہے جو اچانک رونما ہوتا ہے۔ حادثے کی وجوہات تک پہنچنے کے لیے وزیراعظم نے اسی دن دو کمیٹیاں تشکیل دیں۔ ایک کمیٹی سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں بنائی گئی ہے، جو اپنی ابتدائی رپورٹ آج دے گی، جبکہ دوسری کمیٹی ڈاکٹر اظہر کیانی کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے جو 7 روز میں اپنی رپورٹ دے گی۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ یہ اندوہناک واقعہ تھا، ہم سب پاکستانی ہیں، ہم سب بچوں کے والدین ہیں۔ سیاسی بیانیے کی بجائے تجاویز دیں تاکہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔
پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ سانحہ پمز پر پوری قوم افسردہ ہے، مسئلے کے حل کی طرف جانا چاہیے۔ افسوس ایک واقعہ ہوتا ہے اسے ہضم کرلیتے ہیں اور اگلا واقعہ پھر ہوجاتا ہے۔ قوم کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کمیشن یا کمیٹی بناتے ہیں، دو روز اسمبلی میں تقاریر ہوتی ہیں، میڈیا میں چار روز شور اٹھتا ہے پھر خاموشی ہوجاتی ہے۔
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ نوزائیدہ بچے کی ذمہ داری بہت بڑی ہے، نرسری میں آگ لگی مگر ابھی تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ آگ کیسے لگی۔ کیا اس وقت بچوں کے پاس کوئی اہلکار تھا؟ دروازے کو تالے لگے ہوئے تھے، کہا گیا بچے چوری ہونے سے بچانے کے لیے تالے لگائے گئے۔ کیا بچوں کو چوری ہونے سے بچانے کے لیے چودہ بچوں کو موت کے حوالے کردیا گیا؟
راجہ پرویز اشرف نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم کی کمیٹیاں اپنی جگہ مگر پارلیمانی کمیٹی اسپیکر کی سربراہی میں بنائی جائے، پارلیمانی کمیٹی حقائق تلاش کرے۔ انہوں نے ایوان میں ارکان کی ایک دوسرے سے خوش گپیوں پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اسی غیر سنجیدگی سے لوگ ہمیں باتیں کرتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے ایئرکنڈیشن سے آگ لگی، کہا جاتا ہے ایئرکنڈیشن تو بند تھا بلکہ خراب تھا۔
ڈاکٹر امجد نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج سے ڈیڑھ سال پہلے ایک کمیٹی بنی، جب وزارت کو بلایا اور سوالات پوچھے تو خدشات سے کہیں زیادہ حالات خراب نکلے۔ اسلام آباد میں 16 بیسک ہیلتھ یونٹس تھے، 16 میں سے 10 بیسک ہیلتھ یونٹس میں سے 4 میں ڈاکٹر ہی موجود نہ تھے۔
ڈاکٹر امجد نے کہا کہ اسلام آباد کے کسی ہسپتال کے پاس ویلڈ لائسنس نہیں تھا۔ رجسٹریشن کا طریقہ کار ہوتا ہے، انسپیکشن کے بعد رجسٹریشن ہوتی ہے۔ 2018 میں قانون سازی ہوئی، 2024 تک رجسٹریشن بورڈ ہی نہیں بنا۔ رجسٹریشن بورڈ بنا تو صرف ایک اجلاس ہوا، ہم آج تک یہ انسپیکشن کمیٹی نہیں بنا سکے۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے رپورٹ بنائی تو ہم پر اتنا دباؤ تھا، بورڈ آف ڈائریکٹرز سیاسی اور رسوخ رکھتا تھا۔ ایک سال گزرنے کے باوجود ہم اپنی رپورٹ ایوان میں پیش نہیں کر سکے۔ رپورٹ ایوان میں پیش نہ ہونے پر وزیراعظم کو باور کرایا۔
شاہدہ اختر علی نے کہا کہ پمز واقعے میں ایک سیکریٹری نہیں، قصورواروں کی پوری چین ہے۔ اس سے ایک سبق حاصل کرنا چاہیے۔ ایسے واقعات پر سخت سے سخت سزاؤں سے متعلق قانون سازی کی جائے۔ سیکریٹری کو معطل کرنا کافی نہیں، معاملے کی مکمل رپورٹ ایوان میں آنی چاہیے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی صحت کا ہنگامی اجلاس سوموار کو طلب کرلیا گیا۔ قائمہ کمیٹی صحت کا اجلاس سانحہ پمز پر طلب کیا گیا ہے، کمیٹی سیکریٹری نے وفاقی وزیر، سیکریٹری اور پمز انتظامیہ کو طلب کرلیا۔ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس ڈاکٹر مہدی کمار ملانی کی زیر صدارت ہوگا۔
اپوزیشن رکن اسد قیصر نے کہا کہ سانحہ پمز پر دل دکھی ہے، اسلام آباد کے دل میں بنے سب سے بڑے ہسپتال کا یہ حال ہے تو باقی ملک کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ سوچیں بچے اور ان کی مائیں کس کرب سے گزرے ہیں۔ وزیر صحت کے پاس تو سیٹ پر رہنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔ وزیر صحت ہی نہیں وزیراعظم کو بھی استعفیٰ دینا چاہیے۔
اسد قیصر نے کہا کہ شہباز اسپیڈ بھی بے نقاب ہوگئی، اسلام آباد کا جو حال شہباز اسپیڈ نے کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ سابق وزیراعظم کو اسی پمز ہسپتال لے کر علاج کے لیے آئے تھے۔ پمز انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ فارم 47 کی حکومت کچھ بھی نہیں کرے گی، اس حکومت کے دن گنے جاچکے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔
پمز واقعے پر قومی اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور کرلی گئی۔ ایوان نے پمز واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ پارلیمانی کاکس برائے حقوق اطفال نے سانحہ پمز پر متفقہ قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کردی، قرارداد چیئرمین پارلیمانی کاکس بیرسٹر دانیال نے پیش کی۔
پمز واقعے پر بیرسٹر گوہر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پمز پر شفاف اور غیر جانبدار انکوائری ہونی چاہیے۔ ہم کوشش کریں کہ آج کے بعد کوئی واقعہ نہ ہو۔ پمز میں ڈاکٹرز اور نرسز موجود نہیں تھے، بچوں کو وہاں لاک کرکے چھوڑ دیا گیا تھا۔ بچوں کے والدین کی دل کھول کر مدد کی۔
وفاقی وزیر قومی صحت مصطفیٰ کمال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ بہت بڑا ہے اور معصوم جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں۔ 14 بچوں کی اموات کی کوئی وضاحت نہیں دی جا سکتی۔ اس پر میں نے بہت کام کیا، جو کچھ کیا کوئی اس کے قریب نہیں پہنچ سکتا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جو فیصلے ہوں گے شواہد کی بنیاد پر ہوں گے۔ وزیراعظم کی جانب سے کمیٹی قائم کردی گئی ہے، جو ذمہ دار ہوگا کسی ایک آدمی کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے، پارلیمانی کمیٹی کو ٹائم باؤنڈ نہ کریں۔
وفاقی وزیر قانون نے سانحہ پمز پر اسپیشل کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی، جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔