پمز سانحے کے بعد وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم
—فائل فوٹو
وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی ہدایت پر وفاق کے زیر انتظام تمام سرکاری اسپتالوں میں فوری طور پر فائر سیفٹی آڈٹ شروع کرنے کا حکم دے دیا گیا۔
ترجمان وزارت صحت کے مطابق اس حوالے سے باقاعدہ مراسلہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔ فائر سیفٹی آڈٹ مجاز اور ماہر فائر سیفٹی کمپنی کے ذریعے جامع طور پر کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آڈٹ کے دوران فائر الارم، فائر فائٹنگ آلات، ایمرجنسی ایگزٹ اور ہنگامی صورتحال میں انخلا کے راستوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
مزید یہ کہ اسپتالوں میں بجلی اور دیگر ممکنہ فائر ہیزرڈز کی بھی جانچ کی جائے گی۔ ایمرجنسی رسپانس کے انتظامات اور کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسپتال کے عملے کی تیاری کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
وزارت صحت نے ہدایت کی ہے کہ فائر سیفٹی آڈٹ کے دوران سامنے آنے والی ایسی خامیاں، جو جان و مال کو فوری خطرے میں ڈال سکتی ہیں، ترجیحی بنیادوں پر دور کی جائیں۔ تمام اسپتالوں کو آڈٹ کے آغاز، متعلقہ فائر سیفٹی کمپنی کے نام اور آڈٹ مکمل ہونے کی متوقع تاریخ سے وزارت صحت کو فوری آگاہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کو سرکاری اور نجی صحت اداروں میں فائر سیفٹی آڈٹ شروع اور اس کی تصدیق کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ آڈٹ کی تعمیل سے متعلق جامع رپورٹ وزارت صحت کو پیش کی جائے گی۔
ترجمان وزارت صحت کے مطابق رپورٹ میں ان تمام صحت اداروں کی نشاندہی کی جائے گی جہاں فائر سیفٹی آڈٹ شروع کردیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ان اداروں کی تفصیلات بھی شامل ہوں گی جہاں آڈٹ کا عمل ابھی زیر التوا ہوگا۔