ایم کیو ایم کافی عرصے سے سندھ کی تقسیم کی کوشش میں مصروف ہے، پیپلز پارٹی

سانحہ پمز اسپتال کی تحقیقاتی رپورٹ فوری پبلک کی جائے، سینیٹر پلوشہ خان، رکن قومی اسمبلی سحر کامران کی پریس کانفرنس

اسلام آباد:

پیپلز پارٹی رہنماؤں نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کافی عرصے سے سندھ کی تقسیم کی کوشش میں مصروف ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان، رکن قومی اسمبلی سحر کامران اور سید سبط الحیدر بخاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ٹی بل کے حوالے سے عوام کے لیے خوشخبری ہے کہ حکومت نے یہ بل واپس لے لیا ہے۔

سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ حکومت نے اسے متنازع بل تسلیم کرکے واپس لیا، جسے سراہتے ہیں۔ اس کا کریڈٹ عوام کو جاتا ہے، جنہوں نے اپنے بنیادی حقوق پر سمجھوتا نہیں کیا، جبکہ پیپلز پارٹی نے بھی بل روکنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

پلوشہ خان نے کہا کہ وفاقی وزراء کی ظفر موج اس بل کے قصیدے پڑھ رہی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی عوام کے آئینی حقوق چھیننے کی کوشش کی جائے گی، پیپلز پارٹی عوام کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

پلوشہ خان نے پمز کے اندوہناک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں 14 بچوں کی جان چلی گئی۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ شواہد مٹانے اور حقائق چھپانے کی کوشش کی جاسکتی ہے، لہٰذا رپورٹ فوری طور پر عوام کے سامنے لائی جائے۔

سینیٹر پلوشہ خان نے سوال اٹھایا کہ 3 سال میں ملنے والے 22 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے اور اس رقم کا آڈٹ کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب گٹھ جوڑ ہے، ایسی صورتحال میں شفاف تحقیقات کیسے ہوں گی۔

رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے بھی مطالبہ کیا کہ پمز واقعے کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ چھوٹے افسران پر ملبہ ڈال کر اصل ذمہ دار بڑے حکام کو بچانے کی کوشش کی جائے گی۔

سحر کامران نے کہا کہ آئی ٹی بل عوام پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی۔ اگر کوئی اپنے گھر پر ٹاور لگانے کی اجازت نہ دیتا تو اسے جرمانے کا سامنا کرنا پڑتا، جبکہ سینیٹر پلوشہ خان نے ہمت دکھاتے ہوئے اس بل کی مخالفت کی۔

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں جس طرح قانون سازی ہورہی ہے، اس پر انہیں تحفظات ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ قومی اسمبلی میں قانون سازی کے عمل کو شفاف بنایا جائے۔

سحر کامران نے پمز واقعے پر کہا کہ ان ماؤں کے دکھ کا کوئی مداوا نہیں، جن کے جگر گوشے ان سے بچھڑ گئے۔ پلوشہ خان نے الزام عائد کیا کہ پمز میں بیٹھے اعلیٰ حکام شواہد چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔ سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی اس معاملے کو فائلوں میں دبنے نہیں دے گی ، دونوں ایوانوں میں بھرپور آواز اٹھا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مطالبہ یہی ہے کہ رپورٹ پبلک کی جائے اور حقائق عوام کے سامنے آنے چاہییں۔

سندھ کی تقسیم سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے پلوشہ خان نے کہا کہ اس حوالے سے باتیں کرنے والوں کو روکا نہیں جاسکتا۔ ایوان میں قرارداد پیش ہوئی ہے جو اکثریت سے منظور ہوگی، جبکہ سندھ کے عوام بھی صوبے کی تقسیم کو مسترد کرتے ہیں۔ سینیٹر پلوشہ خان نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کافی عرصے سے سندھ کی تقسیم کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔

Load Next Story