ٹرمپ کی تقاریر پر جوا کھیل کر لاکھوں ڈالر کمانے والے وائٹ ہاؤس اہلکار پر جرمانہ

ٹرمپ کی تقریروں میں کہے جانے والے الفاظ اور موضوعات پر آن لائن جوا کمپنی کالشی پر شرطیں لگائیں

فوٹو: رائٹرز

سابق وائٹ ہاؤس ٹیلی پرامپٹر آپریٹر گیبریئل پیریز کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریروں سے متعلق اندرونی معلومات استعمال کرتے ہوئے پیش گوئیوں پر شرطیں لگانے کے الزام میں ایک لاکھ 72 ہزار ڈالر سے زائد ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

امریکی کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن کے مطابق گیبریئل پیریز نے دسمبر 2025 سے فروری 2026 کے دوران ٹرمپ کی مختلف تقریروں میں ممکنہ طور پر کہے جانے والے الفاظ اور موضوعات پر آن لائن جوا کمپنی کالشی Kalshi کے ذریعے شرطیں لگائیں۔

تحقیق کے مطابق پیریز نے ان شرطوں سے تقریباً ایک لاکھ 7 ہزار 539 ڈالر کا منافع حاصل کیا۔ اب انہیں یہ تمام منافع واپس کرنے کے ساتھ ساتھ 65 ہزار ڈالر کا سول جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔

امریکی کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پیریز نے صدر کی تقریروں سے متعلق اپنی پیشگی معلومات کا غلط استعمال کیا اور اعتماد و رازداری کی ذمہ داری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان معلومات کی بنیاد پر مالی فائدہ حاصل کیا۔

حکام کے مطابق تحقیقات میں تعاون کرنے کی وجہ سے پیریز پر عائد جرمانے میں کمی کی گئی ہے۔ تاہم انہیں آئندہ تین سال تک ٹریڈنگ کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم جولائی میں اس وقت کی وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے بتایا تھا کہ پیریز کو بغیر تنخواہ کے رخصت پر بھیج دیا گیا ہے اور وہ دوبارہ اپنے عہدے پر واپس نہیں آئیں گے۔

آن لائن جوا کمپنی کالشی نے مارچ میں غیر معمولی سرگرمی محسوس کی تھی۔ بعد ازاں اکاؤنٹ کی معلومات کے ذریعے معلوم ہوا کہ متعلقہ صارف وائٹ ہاؤس میں ٹیلی پرامپٹر آپریٹر کے طور پر کام کرتا تھا۔ اس سرگرمی کی اطلاع متعلقہ وفاقی ریگولیٹر کو دے دی تھی۔

کمپنی کے مطابق سیاسی رہنماؤں، خصوصاً امریکی صدر اور فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کے بیانات مالیاتی منڈیوں پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں، کیونکہ ان کے الفاظ سے کرنسی، تیل اور اسٹاک مارکیٹس میں اربوں ڈالر کی نقل و حرکت متاثر ہو سکتی ہے۔

اسی معاملے کے بعد جولائی میں وائٹ ہاؤس مینجمنٹ آفس نے انتظامیہ کے عملے کو ہدایت بھی کی تھی کہ وہ پیش گوئی کی مارکیٹس پر شرطیں نہ لگائیں۔

 

Load Next Story