کیا عروج ہی زوال ہے؟

اس وقت ہم دنیا کے جس دور میں جی رہے ہیں اْسے عروج کی بلندی سمجھا جاتا ہے

زوال اور عروج دو مخالف سمت کی انتہا ہیں، دونوں اپنے اندر شدت سموئے ہوئے ہیں، ایک سفر کا آغاز ہے تو دوسرا اختتام ہے۔ دنیا والوں کی نظر میں عروج انسان کی زندگی کی معراج ہے جب کہ زوال ایک گھٹن زدہ تاریک دور، جس کا محض نام لینے سے بھی انسان اجتناب برتا ہے۔

جس شے یا امر کو انسان منفی پیرائے میں دیکھتا ہے وہ بعض اوقات ویسی نہیں ہوتی ہے، اس کے علاوہ ہر چمکتی چیز کو بِنا پرکھے سونا سمجھنا بیوقوفی ہے۔ انسان اپنی عقل و سمجھ پر بڑا نازاں رہتا ہے، اس کو لگتا ہے چیزوں کے معنی تعین کرنے میں وہ مہارت رکھتا ہے لیکن ہر بار وہ درست ہو یہ ضروری نہیں ہے۔

اس دنیائے فانی میں آنکھ کھولتے ساتھ انسان کی سماعتوں میں، ترقی حاصل کرنا، کامیابی کی سیڑھی چڑھنا اور عروج کی بلندیوں کو چھونا، جیسی نصیحتیں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ہمیشہ روشنی میں رہنے کے فائدے اور اندھیری راہوں کی جانب رْخ کرنے کے نقصانات ہوش سنبھالتے ہی اْٹھتے، بیٹھتے انسان کے گوش گزار کیے جاتے ہیں۔

اس جہاں میں شاید ہی کوئی ایسا فرد ہو جس کو عروج اور زوال کی جامع تعریف ازبر نہ ہو، ورنہ یہاں ان دونوں اصطلاحات کے معنی بمعہ حوالہ و تشریح سے سبھی واقف ہیں۔ بلاشبہ عقل و دانائی میں انسان اپنی مثال آپ ہے مگر کبھی کبھار وہ منظر کے پسِ منظر میں جھانکنے سے چوک جاتا ہے۔

اس وقت ہم دنیا کے جس دور میں جی رہے ہیں اْسے عروج کی بلندی سمجھا جاتا ہے، زمانہ حال میں ایسا کچھ نہیں ہے جو انسان کی دسترس سے باہر ہو۔ پوری دنیا سر کرنا، چاند پر قدم جمانا، آسمان کی اْونچائیوں کو چھونا، سمندر کی گہرائیوں میں اْترنا، علم کے میدان میں نئی جہتیں لانا، کسی بھی طرز کے فن میں کمال مہارت دکھانا، یہاں تک کہ خود کے جسم اور شکل و صورت میں رد و بدل کا عمل انجام دینا، اب سب ممکن ہے۔

موجودہ دور اے آئی (مصنوعی ذہانت) کا ہے، جسے جادو نگری کا نام دینا زیادہ بہتر ہوگا۔ آج دنیا میں اے،آئی کی مدد سے مردہ انسان کو واپس زندہ کرنے کے علاوہ باقی سبھی کام کیے جا رہے ہیں۔ دنیا کے اس بامِ عروج کہلانے والے دور میں پروان چڑھنے والی نسلیں جنھیں جنریشن زی اور ایلفا کہا جاتا ہے، بلا کی ذہین ہیں۔

جن کاموں کو سمجھنے اور عمل کرنے میں جین زی اور ایلفا سے قبل کے لوگوں کو وقت لگتا اور دقت پیش آتی تھی وہ یہ دونوں نسلیں چند لمحوں میں باآسانی سرانجام دیکر کچھ نیا تخلیق کرنے نکل پڑتی ہیں۔

ہماری موجودہ دنیا جدیدیت کی تصویر پیش کر رہی ہے، ہمارے اردگرد موجود ہر شے اپنے عروج پر پہنچی ہوئی ہے، ماضی میں جو ناقابلِ تسخیر راہیں تھیں اب انسان اْن پر اپنی فتح کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ یہ ہر لحاظ سے ایک سنہرا ترین دور تصور کیا جا رہا ہے مگر میری نظر میں یہ عروج نہیں زوال ہے۔

آج دنیا میں نیا کیا ایجاد ہو رہا ہے، انسان اْس سے باخبر ہے مگر پڑوس میں کیا ہو رہا ہے انسان کو خبر نہیں ہے۔ خلاء میں انسان کو بسانے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں لیکن جو زمین میں موجود ہیں اْن کی بقاء سے کوئی خاص مطلب نہیں ہے۔

آسمان، زمین اور آب کی جنگ ہر کوئی جیتنا چاہتا ہے مگر جو پہلے سے مْٹھی میں موجود ہے اْس کی بے قدری زور و شور سے جاری ہے۔ علم کے چراغ ہر سو روشن ہیں مگر اخلاقی اقدار موجودہ معاشروں میں بمشکل نظر آ رہے ہیں۔

مہنگے بیوٹی پروڈکٹس اور کاسمیٹک سرجریز سے انسان نے اپنا ظاہر خوبصورت بنا لیا ہے لیکن اْس کے باطن سے تعفن اْٹھ رہا ہے۔ اے، آئی انسان کو آسانی پہنچانے کی غرض سے معرض وجود میں آیا تھا مگر اس نے انسان کے ذہن کو ناکارہ بنانے کے ساتھ ساتھ شیطانی عمل میں اْلجھا کر رکھ دیا ہے۔

مصنوعی ذہانت کی آمد سے قبل انسان اپنے ذہن میں اْٹھنے والے سوالات کے جوابات کا کھوج لگانے کے لیے خود کے دماغ کا استعمال کرتا تھا اور تحقیق کا راستہ اختیار کرتا تھا لیکن اب وہ ایک جگہ بیٹھے بیٹھے بِنا کوئی تگ و دو کیے اے-آئی چیٹ بوٹز کی مدد سے اپنی من چاہی معلومات حاصل کرلیتا ہے۔

وقت بچانے کے لحاظ سے اے-آئی انسان کے لیے بہترین نعمت ہے مگر ساتھ اْس کے دماغ کو زنگ لگانے اور پستی میں دھکیلنے کا بدترین ذریعہ ہے۔ اس وقت ہم انسان دنیا کے ڈجیٹل دور میں جی رہے ہیں اور یہاں سے مصنوعی ذہانت نے بہت حد تک اصل کو رخصت کر دیا ہے، معاملہ اس نہج تک خراب ہوچکا ہے کہ اب سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

اے آئی کے منفی استعمال میں انسان اتنا آگے نکل گیا ہے کہ اْس کی ذات میں شیطان کی موجودگی کا گمان ہونے لگا ہے۔ موبائل فونز بمعہ انٹرنیٹ سبھی کے پاس موجود ہیں مگر ایک چھت تلے کئی افراد ساتھ رہتے ہوئے بھی تنہا ہیں۔ کہنے کو انسان اپنے عروج کی انتہا پر ٹھاٹھ سے براجمان ہے لیکن اْس کی ذات نقل کی زندہ جاوید مثال بنی ہوئی ہے۔

آخر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عروج پہاڑ کی بلند و بالا چوٹی ہے تو اْس کے آگے کیا ہے؟ انسان اپنی زندگی کا کوئی حاصل منتخب کرتا ہے، کسی نہ کسی مقصد کا تعین کرتا ہے لیکن اْس کو پانے کے بعد اگلا مرحلہ کیا ہوتا ہے، انسان اس بات سے بالکل ناآشنا ہے۔

انسان اپنی کامیابی کا کچھ وقت تک جشن مناتا ہے پھر وہ اپنی جیت سے اْکتا جاتا ہے۔ انسان سفر سے جتنا لطف اندوز ہوتا ہے اس کے مقابلے میں منزل اْس کو دیرپا سحر میں مبتلا نہیں رکھ پاتی ہے۔ کسی بھی چیز یا مقصد کی اْنچائی کے بعد ڈھلان ہی انسان کے اگلے قدم کی منتظر ہوتی ہے اور آج جسے ہم عروج سمجھ کر پھولے نہیں سما رہے ہیں ،حقیقت میں وہ انسان کے لیے دیمک ہی تو ثابت ہو رہی ہے۔

Load Next Story