محقق، معلم، مصنف، دانشور 93 کتابوں کے مصنف ڈاکٹر معین الدین عقیل پاکستان سمیت دیگر ممالک میں بھی تعارف کے محتاج نہیں ہیں،اگر میں ڈاکٹر صاحب کا مکمل تعارف لکھنے بیٹھوں تو ایک نہیں کئی صفحات درکار ہوں گے، لہٰذا مختصر اور خاص خاص علمی و تحقیقی کارناموں کا تذکرہ کرنا ناگزیر ہے۔
ان کے جد اعلیٰ سید علاؤالدین مجاہد آزادی 1857، سید احمد شہید کی تحریک مجاہدین میں شریک ہوئے، بعدازاں گرفتار ہوئے اور انگریزوں کی قید میں رہ کر بمقام جزیرہ کالا پانی 1888 میں شہادت پائی۔ والد سید ضمیر الدین 1979-1912 مملکت آصفیہ حیدرآباد کی سرکاری ملازمت میں رہے۔
ڈاکٹر معین الدین عقیل کی پیدائش 25 جون 1946 ہے ،انھوں نے کراچی یونیورسٹی سے ڈی لٹ اور پی ایچ ڈی کی اسناد حاصل کیں اس کے علاوہ بین الاقوامی اور ملکی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور انھوں نے بطور ڈین فیکلٹی آف لیگویجز اینڈ لٹریچر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی (اسلام آباد) میں خدمات انجام دیں۔
اس کے علاوہ پروفیسر و صدر شعبہ اردو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی (اسلام آباد) اور کراچی یونیورسٹی میں تدریسی و تحقیقی اور انتظامی مناصب کے طور پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ڈاکٹر معین الدین کے علمی و تحقیقی و تنقیدی کارناموں کا احاطہ کرنا آسان کام نہیں ہے۔ تحریر کا رخ بدلتے ہوئے ان کے مزید قابل فخر کارناموں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گی اور گاہے بہ گاہے اعزازات و انعام اور ان کی تصانیف کا تذکرہ۔
ایک اہم کتاب ’’حاصل عمر‘‘ 412 صفحات پر مشتمل اور رنگ ادب پبلی کیشنز سے شائع ہوئی ہے۔ ڈاکٹر معین الدین عقیل کا تعلق ایک علمی و ادبی اور دینی خانوادے سے ہے۔ انھوں نے کتاب کا انتساب اپنے جد اعلیٰ سید علاؤ الدین شہید کے نام لکھا ہے۔ کتاب تین حصوں پر مشتمل ہے۔ حصہ اول: تشکیلی دور، میرا کتب خانہ، حصہ دوم: عقیل کلیکشن کیوتو کی موضوعاتی فہرست، حصہ سوم: عقیل کلیکشن ادارہ معارف اسلامی۔
ڈاکٹر صاحب نے اپنے گھریلو حالات اور والدین کی مصروفیات کے بارے میں اپنے قارئین کو آگاہ کیا ہے۔ ہوش سنبھالنے کے بعد اپنے والدین سید ضمیر الدین متوفی 1979 اور والدہ محترمہ (عزیزہ بانو متوفی 2018) کو کتابیں پڑھتے دیکھا جب کہ والد صاحب لکھتے بھی تھے اور ان کی لکھی ہوئی تحریریں (بیاضیں) اور یادداشتیں محفوظ ہیں، والدہ صاحبہ افسانہ نگاری کی طرف مائل تھیں۔
انھوں نے اپنے شوق و ذوق کے نتیجے میں افسانے لکھے لیکن انھیں شائع نہیں کرایا۔ ڈاکٹر صاحب کو ایک ایسا ماحول میسر آیا جہاں علم کی آبیاری اور تخلیقی صلاحیتوں کے اشجار پر ثمر اپنا جلوہ دکھا رہے تھے انھی اثرات نے ڈاکٹر صاحب کو حصول علم کی طرف رغبت دلائی۔
والد صاحب سرکاری ملازم تھے مملکت حیدرآباد کے ایک شہر اودگیر نزد بیدرمیں رہائش پذیر تھے، ڈاکٹر صاحب کے خاندان نے 1953 میں پاکستان ہجرت کی اور یہاں ہی کے ہو رہے۔ ہجرت یا نقل مکانی کے بعد معاشی حالات اتنے بہتر نہ تھے لیکن پورا خاندان علم و ادب سے وابستہ رہا۔
ڈاکٹر صاحب کے ایک بڑے بھائی بھی تھے جن کا نام سید محی الدین نثار (1942تا1988) تھا۔ ڈاکٹر صاحب سے صرف چار سال بڑے تھے۔ یہ چار افراد پر مشتمل کنبہ اپنی علمی پیاس کو بجھانے اور اپنے ذوق کے مطابق کتابوں کے مطالعے کے لیے ایک آنہ لائبریری سے استفادہ کرتا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب علم کے فروغ اور طالب علموں کے لیے گلی کوچوں میں لائبریریوں کا جال بچھا ہوا تھا۔
ہر دوسری گلی اور لب ِ سڑک لائبریری مختلف کتابوں سے بھری ہوئی نظر آتی۔ سیاسی، معاشرتی، سائنسی اور جاسوسی ادب کے ساتھ فلسفے اور طب پر کتابیں موجود ہوتیں۔ مختلف تخلیق کاروں کے ناول، افسانے اور تراجم باذوق قاری کے لیے دکاندار اپنے شیلف میں سجا کر رکھتے۔
اسی طرح فلمی رسالوں کی بھی کمی نہیں تھی اور ٹیپ ریکارڈر کے کیسٹ بھی اکثر دکانوں پر رکھے نظر آتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے اس دور کا حال اس طرح بیان کیا ہے۔ ان لائبریریوں میں زیادہ تر ناول اور افسانوی ادب ہی ملا کرتا تھا لیکن کبھی کبھی مذہبی اور تاریخی موضوعات پر بھی کتابیں آ جایا کرتی تھیں۔
ان دنوں ڈاکٹر صاحب ایک عام سی فضا کے زیر اثر افسانوی ادب زیادہ دلچسپی اور تواتر سے پڑھا کرتے تھے چنانچہ میں نے انھی لائبریریوں سے اردو کا سارا افسانوی ادب، قدیم جدید معاصر یہاں تک کہ طلسم ہوش ربا اور داستان امیر حمزہ جیسی ضخیم کتابیں بھی پڑھ ڈالیں۔
دوسرے موضوعات پر بھی پڑھنے کا موقع ملتا رہا۔ ڈاکٹر صاحب نے ’’کتب خانے کا آغاز‘‘ کے عنوان سے جو مضمون قلم بند کیا ہے، اسے پڑھ کر اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی کتابوں سے محبت عشق تک پہنچ گئی۔
وہ اپنی جیب خرچ سے جہاں بھی کتابوں کے انبار نظر آتے خواہ وہ ٹھیلا ہو یا ردی فروش یا پھر فٹ پاتھ پر سجی ہوئی کتابیں نادر و نایاب کتابیں بھی دو چار روپوں میں خریدی گئیں۔ اس شوق کو پروان چڑھانے کے لیے پیدل آنا جانا پسند کیا اور جو کرایہ بچا ان پیسوں سے اپنے شوق اور جنون کو مزید جلا بخشی۔
پاکستان میں ذاتی کتب خانوں کا مستقبل، مذکورہ تحریر میں کتابوں کی ناقدری کی حالت زار کا رونا گویا خون کے آنسو بہانے کے مترادف ہے۔ ’’میرے کتب خانے کا مستقبل‘‘ کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب نے نہایت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کئی اہم ناموں کا تذکرہ کیا ہے، جن میں شیخ محمد اکرام، ممتاز حسن اور محمد شفیع کے کتب خانوں کا حال ہرگز قابل تعریف نہیں ہے۔
ڈاکٹر صاحب خوش نصیب ہیں ان کی دانائی، علمیت و قابلیت اور قیمتی و نادر کتابوں کا خزانہ جاپان منتقل ہو گیا۔ ڈاکٹر عقیل اسی پریشانی میں تھے کہ کتابوں کی حفاظت کہاں اور کس طرح کی جائے۔
اسی دوران ایک اہم اور معتبر پیش کش جاپان کی ایک نہایت موقر اور بلند معیار جامعہ، کیوتو یونیورسٹی کی طرف سے آئی۔ کیوتو یونیورسٹی جاپان کی بہترین جامعات میں سے ایک ہے۔ اس کا شمار دنیا کی دس بہترین جامعات میں ہوتا رہا ہے۔ اس یونیورسٹی سے پانچ نوبل انعام یافتگان منسلک رہے ہیں۔
ان دنوں اس میں مطالعات اسلام کو بے حد فروغ حاصل ہورہا ہے۔ ایک موقع پر وہاں کے اساتذہ کے ایک پرتکلف اجتماع میں ڈاکٹر عقیل کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کر دیا کہ اگر انھیں منظور ہو تو وہ یونیورسٹی کے کتب خانے میں ایک گوشہ Aqeel Collection کے نام سے قائم کرنا چاہتے ہیں اور پھر الحمد للہ ڈاکٹر صاحب کی اجازت سے یہ کتابیں جاپان کی کیوتو یونیورسٹی میں 58 الماریوں یا شیلف کے 450 خانوں میں رکھی گئی ہیں اور یہ قابل قدر کام کیوتو یونیورسٹی کے اساتذہ کرام کاہے، ایک گروپ 2011 میں کراچی آیا تھا ان کے ہاتھوں یہ وقیع کام اپنے انجام کو پہنچا۔
اس منتقلی میں اوساکا میں قائم پاکستان قونصل خانے کے سربراہ ڈاکٹر محمد اقبال تھیہم کا تعاون اہمیت اور تحسین کا حامل تھا۔ اس ذخیرہ کتب کی فہرست و اندراجات ادارہ معارف اسلامی کے کارکن محمد احتشام الحق نے بڑی عرق ریزی اور محنت و توجہ سے مرتب کیا ہے۔
حروف تہجی کے اعتبار سے پاکستان کے مصنفین، ناقدین، شعرا کی کتب اور فکشن کی ہزاروں کتابوں کا اندراج موجود ہے۔ جن میں ہماری بھی تین کتابوں کا ذکر ’’ن‘‘ کی فہرست میں شامل ہے۔ (1)۔آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے۔ (2)۔ فضا اعظمی کے فلسفہ خوشی کا تجزیاتی جائزہ(3)۔ گلاب فن اور دوسرے افسانے۔ ہماری ان کتابوں کی نشان دہی معتبر شاعر اور نثر نگار جناب عارف سومرو نے کی تھی۔ بے شمار اہل ادب اہل فن کی کتب کی فہرست کتاب میں موجود ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک نہیں بے شمار ایوارڈ اور انعامات حاصل کیے۔
ایک صاحب نظر دانشور اور اسکالر کو میں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔