پاک بھارت آبی تنازع

بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے سبھی معاہدوں میں یہ سب سے کامیاب اور با اثر معاہدہ ہے


ایڈیٹوریل August 30, 2026

پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کشمیر کے علاوہ آبی تنازع بھی موجود ہے اور یہ خاصی شدت اختیار کر گیا ہے۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر کے آبی تنازع کی شدت میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اگلے روز خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کی جانب سے کوئی بھی یکطرفہ اقدام پاکستان کے خلاف جارحیت اور اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔

سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کے لیے ضروری ہے، امریکا میں پاکستانی سفارتخانے میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق سیمینار سے ورچوئل خطاب کرتے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے واضح کیاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 سے سندھ طاس معاہدہ موجود ہے، جو محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک اہم قانونی فریم ورک ہے۔

عالمی بینک سندھ طاس معاہدے کا ثالث ہے،معاہدے کے تحت دریائے راوی،بیاس اور ستلج کا پانی بغیرکسی پابندی کے بھارت استعمال کر سکتا ہے، پاکستان دریائے سندھ،جہلم اور چناب بغیر کسی پابندی کے استعمال کر سکتا ہے۔اس معاملے میں کسی بھی قسم کی مداخلت سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی سمجھی جائے گی۔

اصولی طور پر بھارت یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی منسوخ کر سکتا ہے۔دریاؤں کی تقسیم کا یہ معاہدہ کئی جنگوں، اختلافات اور جھگڑوں کے باوجود کئی دہائیوں سے اپنی جگہ قائم ہے۔بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے سبھی معاہدوں میں یہ سب سے کامیاب اور با اثر معاہدہ ہے۔

سندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم اور چناب کو پاکستان کے کنٹرول میں دیا گیا۔ اس کے تحت ان دریاؤں کے 80 فیصد پانی پر پاکستان کا حق ہے۔انڈیا کو ان دریاؤں کے بہتے ہوئے پانی سے بجلی پیدا کرنے کا حق ہے لیکن اسے پانی ذخیرہ کرنے یا اس کے بہاؤ کو کم کرنے کا حق نہیں ہے۔اس معاہدے کے ضامن میں عالمی بینک بھی شامل ہے۔

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کو بہانہ بنا کر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے اور اٹاری چیک پوسٹ بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ یاد رہے کہ پہلگام میں فائرنگ کے واقعے میں 26افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس واقعے کو ہوئے کئی برس ہو چکے ہیں لیکن بھارت آج تک اس معاملے میں پاکستان کا ہاتھ ثابت نہیں کر سکا۔ اس کے باوجود بھارت کی سرکار نے پاکستان کے خلاف اپنے جارحانہ عزائم کو جاری رکھا ہوا ہے۔

پاکستان کا اس حوالے سے موقف بالکل واضح ہے۔پاکستان بھارت عالمی معاہدوں کا پابند ہے اور پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی کسی شق کی خلاف ورزی بھی نہیں کی۔ بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث پاکستان اور بھارت کے انڈس واٹر کمشنرز کا اجلاس بھی نہیں ہو سکا‘حالانکہ ایک برس میں دونوں ملکوں کے کمشنرز کا اجلاس ایک بار ہونا ضروری ہے۔

سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ معاہدہ ہے اور اس کا ضامن عالمی بینک ہے لہٰذا بھارت اسے یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا۔

بھارت کی پاکستان کے خلاف سازشیں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بھی ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔پاکستان نے دنیا کے ہر فورم پر بھارت کی سازشوں کے ثبوت بھی فراہم کر رکھے ہیں۔

بھارت افغانستان کے ساتھ مل کر پاکستان میں اپنی پراکسیز کے ذریعے دہشت گردی کرا رہا ہے۔ پاکستان کے دو صوبوں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کالعدم ٹی ٹی پی اور کالعدم بی ایل اے کے دہشت گرد آئے روز پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے خلاف بھی کارروائیاں کرتے ہیں اور پاکستان کے بے گناہ شہریوں کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بناتے ہیں۔ افغانستان کی طالبان حکومت کو بھارت پوری طرح مدد فراہم کر رہا ہے۔

بھارت کے وزیر یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ طالبان اور بھارت کا ڈی این اے ایک ہے۔ اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف کس طرح پراکسی جنگ کر کے پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشیں کر رہا ہے۔ جنوبی ایشیا کے ممالک میں ہم آہنگی لانے اور تجارتی مواقع بڑھانے کے لیے سارک نامی تنظیم قائم کی گئی تھی۔

بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ تنظیم بھی معطل ہو چکی ہے۔ بھارت اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف مسلسل سازشیں کرتا رہتا ہے۔ بنگلہ دیش اس کی واضح مثال ہے۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے مکہ معاہدے میں شمولیت کا اشارہ بھی دیا ہے۔

بھارت نے بنگلہ دیش کے ساتھ بھی پانی کا تنازع بنا رکھا ہے۔ اسی طرح بھارت کے سری لنکا کے ساتھ بھی تعلقات سب کے سامنے ہیں۔ بھارت عرصہ دراز تک سری لنکا میں انتشار پھیلانے کے لیے دہشت گرد تنظیم تامل ٹائیگرز کی حمایت کرتا رہا ہے۔ نیپال کے ساتھ بھارت قبضہ گیری کی پالیسی پر چل رہا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو جنوبی ایشیا میں بھارت کے تعلقات کسی بھی ملک سے اچھے نہیں ہیں۔

پاکستان نے جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لیے ہمیشہ پر امن ذرائع اختیار کرنے کی بات کی ہے۔ پاکستان نے بھارت کے ساتھ تنازعات کو حل کرنے کے لیے کبھی مذاکرات سے راہ فرار اختیار نہیں کی۔ جب سے بھارت میں جنتا پارٹی کی حکومت آئی ہے‘ بھارتی پالیسی میں پاکستان دشمنی کو پہلی ترجیح کے طور پر رکھا جا رہا ہے۔

بھارت میں پاکستان کی مخالفت کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ جب بھی بھارت میں کسی ریاستی اسمبلی کا الیکشن آتا ہے یا وہاں جنرل الیکشن کا موقع آتا ہے تو بھارت میں کہیں نہ کہیں دہشت گردی کی واردات ہو جاتی ہے۔ بی جے پی کے رہنما فوری طورپر اس کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی بھارتی میڈیا بھی ایک پراپیگنڈا مہم کا آغاز کر دیتا ہے۔ پلوامہ حملے کے لے کر پہلگام حملے تک بھارت نے یہی پالیسی اختیار کی ہے۔

پاکستان میں بھارت میں ہونے والی ہر دہشت گردی کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ تحقیقات میں تعاون کے لیے تیار ہے لیکن بھارت نے کبھی بھی اس حوالے سے مثبت رویہ اختیار نہیں کیا ۔دو طرفہ جامع مذاکرات کی بات کی جائے تو یہاں بھی بھارت کی ہٹ دھرمی نے کسی بھی تنازع کو حل نہیں ہونے دیا۔

بھارتی قیادت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پاک بھارت تنازعات کی جڑ تنازع کشمیر ہے۔ جب تک کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق طے نہیں ہوتا ‘پاک بھارت تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے۔ اس حقیقت کے باوجود بھارت نے تنازع کشمیر حل کرنے کی طرف کبھی توجہ نہیں دی۔ آج بھی بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر جاری رکھے ہوئے ہے۔

مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کو حاصل بھارتی آئین میں خصوصی حیثیت کا خاتمہ کر دیا ہے۔ لداخ کو کشمیر سے الگ کر کے اسے براہ راست یونین ٹیریٹی قرار دیدیا ہے۔ اس کے علاوہ مودی سرکار نے کشمیر کو بھارت کی باقاعدہ ریاست قرار دے کر وہاں غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل دینے اور جائیدادیں خریدنے کا حق دینے کا اعلان کر دیا ہے۔

حالانکہ یہ سب کچھ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے خلاف ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی قیادت نے بھارت کے ان اقدامات کو مسترد کر رکھا ہے۔یہی نہیں بلکہ بھارت کے دانشور حلقوں نے بھی وزیراعظم نریندر مودی کی اس پالیسی کی مخالفت کی ہے۔ لیکن ہندوتوا نظریے کے علمبردار نریندر مودی اور ان کے ساتھیوں نے کسی کی پرواہ نہیں کی ہے اور وہ بدستور کشمیر میں ظلم و جبر جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس پس منظر کو دیکھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ بھارت پانی کو بھی پاکستان کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ بھارت کا یہ اقدام عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کا موقف اس حوالے سے بالکل واضح اور دو ٹوک ہے۔ پانی کسی بھی ملک کی معیشت کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔

دریاؤں کے پانی کو بند کرنے کا مطلب ایسی جارحیت ہوتی ہے جس کا نتیجہ جنگوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ دنیا میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاںقوموں کے درمیان پانی کی تقسیم پر تنازعات کھڑے ہوئے‘جب یہ تنازعات بات چیت کے ذریعے حل نہ ہوئے اور ایک فریق نے ہٹ دھرمی اور جارحیت کا مظاہرہ جاری رکھا تو اس کا نتیجہ جنگ کی صورت میں نکلا۔