گدو 747 میگاواٹ پاور پلانٹ کی اسٹیم ٹربائن کی بحالی کے لیے بین الاقوامی بولیاں طلب

اسٹیم ٹربائن کی بحالی سے بجلی کی پیداواری لاگت 13.87 روپے سے کم ہو کر 9.68 روپے فی یونٹ رہنے کی توقع ہے

گدو 747 میگاواٹ پاور پلانٹ کے اسٹیم ٹربائن کی بحالی کے لیے بین الاقوامی بولیاں طلب کر لی گئیں۔

ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق اسٹیم ٹربائن کی بحالی سے بجلی کی پیداواری لاگت 13.87 روپے سے کم ہو کر 9.68 روپے فی یونٹ رہنے کی توقع ہے، منصوبے سے بجلی کی لاگت میں 4.19 روپے فی یونٹ کمی متوقع ہے۔

ترجمان کے مطابق گدو پاور پلانٹ کی پیداواری صلاحیت میں 297 میگاواٹ کا اضافہ ہوگا، اضافی 297 میگاواٹ موجودہ پیداوار کے مقابلے میں 66 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

جولائی 2022 کے آتشزدگی واقعے کے بعد اسٹیم ٹربائن-16 اور متعلقہ جنریٹر بند ہیں، جبکہ پلانٹ اس وقت اوپن سائیکل موڈ میں تقریباً 450 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں گدو پاور پلانٹ ڈسپیچ فہرست میں 11ویں نمبر پر ہے۔

مکمل کمبائنڈ سائیکل آپریشن کی بحالی کے بعد پلانٹ 747 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا، جبکہ بحالی کے بعد پلانٹ کی میرٹ آرڈر میں پوزیشن تقریباً 7ویں نمبر تک بہتر ہونے کی توقع ہے۔

ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق تفصیلی تکنیکی اور انجینئرنگ جائزے کے بعد اسٹیم ٹربائن کی بحالی کے لیے پروکیورمنٹ کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا گیا۔ پاور ڈویژن نے جامع انٹیگریٹی اسسمنٹس مکمل کرنے کے بعد ای پی سی ٹرن کی پیکیج تیار کیا اور اسٹیم ٹربائن-16 اور متعلقہ آلات کی بحالی کے لیے بین الاقوامی مسابقتی بولیاں طلب کی گئی ہیں۔

بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ 7 اکتوبر 2026 مقرر کی گئی ہے، جبکہ مرمتی کاموں کی تکمیل اور کمیشننگ کے لیے دسمبر 2028 کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق منصوبہ پاکستان کے موجودہ پیداواری اثاثوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے میں مدد دے گا۔ گدو پاور پلانٹ قومی گرڈ اور شمال-جنوب بجلی ترسیل راہداری میں اہم اسٹریٹجک حیثیت رکھتا ہے۔

پلانٹ کی مکمل بحالی سے گرڈ کی آپریشنل مضبوطی اور لچک میں اضافہ ہوگا، کم لاگت بجلی کی دستیابی سے مہنگے پیداواری ذرائع پر انحصار کم ہوگا۔ حکومت موجودہ توانائی اثاثوں کی استعداد بہتر بنا کر صارفین کو عملی فوائد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
 

Load Next Story