فیکٹ چیک: علیمہ خان سے منسوب پی ٹی آئی کی صدارت کا دعویٰ جھوٹا نکلا
سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان سے منسوب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے پی ٹی آئی کی صدر بننے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
یہ دعویٰ غلط ہے۔
دعویٰ کیا ہے؟
21 اگست کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر علیمہ خان کے ایک انٹرویو کا تقریباً دو منٹ طویل کلپ شیئر کیا گیا۔ یہ انٹرویو آسٹریلوی صحافی ماریو نوفل نے کیا تھا۔
میری خواہش ہے میں پارٹی کی صدر بن کر تمام پارٹی معاملات اپنے ہاتھ میں لوں اور یہ تب تک ممکن نہیں ہے جب تک عمران خان زندہ ہے اور میری خواہش ہے عمران خان جیل میں ہی مرے اس لیے میں باہر اس کے نام پر من گھڑت بیان دے دے کر اسے پھٹے پر چڑھا کر دم لوں گی۔۔علیمہ ڈائن pic.twitter.com/MX4rt07fJs
— Ajwa PMLN (@AjwaPmln) August 21, 2026
ویڈیو کے ساتھ اردو میں دعویٰ کیا گیا کہ علیمہ خان پی ٹی آئی کی صدر بن کر پارٹی کے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہیں اور ایسا عمران خان کی موجودگی میں ممکن نہیں۔
پوسٹ میں علیمہ خان سے منسوب کرتے ہوئے یہاں تک دعویٰ کیا گیا کہ وہ چاہتی ہیں کہ عمران خان جیل میں انتقال کر جائیں۔
رپورٹ کے وقت تک مذکورہ پوسٹ کو 2 ہزار 655 مرتبہ دیکھا اور 39 مرتبہ لائیک کیا جا چکا تھا جبکہ اسی نوعیت کے دعوے ایکس اور فیس بک پر دیگر اکاؤنٹس سے بھی شیئر کیے گئے۔
میری خواہش ہے میں پارٹی کی صدر بن کر تمام پارٹی معاملات اپنے ہاتھ میں لوں اور یہ تب تک ممکن نہیں ہے جب تک عمران خان زندہ ہے اور میری خواہش ہے عمران خان جیل میں ہی مرے اس لیے میں باہر اس کے نام پر من گھڑت بیان دے دے کر اسے پھٹے پر چڑھا کر دم لوں گی۔۔علیمہ ڈائن pic.twitter.com/Y8LVlEFFFN
— Niki Chiri♡ (@cutehunmee) August 20, 2026
حقیقت کیا ہے؟
فیکٹ چیک میں سامنے آیا کہ زیرِ گردش انٹرویو حالیہ نہیں بلکہ اگست 2025 کا ہے اور علیمہ خان نے اس میں پی ٹی آئی کی صدر بننے، پارٹی کا کنٹرول سنبھالنے یا عمران خان کے حوالے سے وائرل پوسٹ میں منسوب کیے گئے بیانات میں سے کوئی بات نہیں ہیں۔
تقریباً ایک گھنٹے پر مشتمل مکمل انٹرویو کا جائزہ لینے پر بھی ایسی کوئی گفتگو سامنے نہیں آئی جس میں علیمہ خان نے پی ٹی آئی کی صدارت یا پارٹی کے معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کی خواہش ظاہر کی ہو۔
انٹرویو کے دوران علیمہ خان نے عمران خان کی جیل میں حالت اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ساتھ ہونے والے سلوک سمیت مختلف معاملات پر گفتگو کی تھی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا حصہ مکمل انٹرویو میں تقریباً 4 منٹ 14 سیکنڈ کے مقام پر موجود ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ وائرل کلپ میں بھی علیمہ خان وہ الفاظ ادا کرتی نظر نہیں آتیں جو پوسٹ کے کیپشن میں ان سے منسوب کیے گئے ہیں۔
علیمہ خان سے منسوب یہ دعویٰ غلط ہے۔ زیرِ گردش ویڈیو اگست 2025 کی ہے اور اس میں انہوں نے نہ پی ٹی آئی کی صدر بننے کی خواہش ظاہر کی اور نہ ہی عمران خان سے متعلق وہ بیان دیا جو سوشل میڈیا پوسٹس میں ان سے منسوب کیا جا رہا ہے۔