عمران خان کی طرح 3قیدیوں کی نجی اسپتال سے علاج کی درخواستوں پر اہم پیشرفت
اسلام آباد ہائیکورٹ نے تین قیدیوں کو سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق ریلیف دینے کے کیس میں تین قیدیوں کی درخواستیں مسترد کر دیں۔
ہائیکورٹ نے اڈیالہ جیل میں قید تینوں قیدیوں کی درخواستیں مسترد کر دیں، جسٹس محمد آصف نے محفوظ فیصلہ جاری کر دیا۔
سپریم کورٹ فیصلے کی روشنی میں قیدی کا بیرون ملک فیملی سے ٹیلی فون پر گفتگو کروانے کی درخواست بھی مسترد کی گئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد آصف نے قیدی محمد اسماعیل کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔
فیصلے کے مطابق درخواست گزار 2 اگست کا آفس آرڈر غیر قانونی ثابت کرنے میں ناکام رہا، درخواست گزار ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق اگر قیدیوں کے لیے قانوناً واٹس ایپ، ویڈیو کال یا رابطے کا کوئی اور ذریعہ دستیاب ہو تو متعلقہ حکام اس درخواست پر غور کر سکتے ہیں۔ یہ سہولت جیل کے نظم و ضبط، سیکیورٹی تقاضوں اور پاکستان پریزن رولز 1978 کے مطابق ہوگی۔
واضح رہے کہ تین قیدیوں نے پرائیویٹ اسپتال میں علاج اور بیرون ملک ٹیلی فونک گفتگو کرنے کی سہولت کی استدعا کی تھی۔