اسلام آباد:
پمز اسپتال کے چلڈرن وارڈ میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد آصف نے عام قیدیوں کی نجی اسپتال منتقلی کیس کی سماعت کے دوران اہم ریمارکس دیے اور پمز اسپتال میں سہولیات پر سوالات بھی اٹھائے۔
تین عام قیدیوں کی نجی اسپتال منتقلی کی درخواستوں پر سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ کل پمز اسپتال میں واقع ہوا، اس حادثے کا بہت افسوس ہے۔
جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دیے کہ ایسے اسپتال میں سہولیات ہونی چاہیئے کہ ایسے واقع سے نمٹا جا سکے، سہولیات کی فراہمی تو حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ اس واقعے کو کوئی جسٹیفائی نہیں کر سکتا۔
جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دیے کہ 14 بچے جان کی بازی ہار گئے یہ تو ہماری حالت ہے، دکھ کی بات ہے اسلام آباد کے اسپتال میں یہ سب کچھ ہوا ہے، آپ لوگوں کو اس کی طرف توجہ دینی چاہیے۔
جسٹس محمد آصف نے مزید ریمارکس دیے کہ وہاں کچھ بھی نہیں ہے، اس صورت میں وہاں علاج کے لیے لوگ کیسے جائیں گے۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ بطور شہری میرا سر شرم سے جھک گیا ہے۔
عدالت نے پمز اسپتال میں سہولیات پر سوالات اٹھا دیے۔