آئی ٹی و ٹیلی کام شعبے کا جی ٹو جی براہ راست ٹھیکوں کا سلسلہ ختم کرنے کا مطالبہ
فوٹو:فائل
آئی ٹی و ٹیلی کام شعبے نے حکومت سے جی ٹو جی براہ راست ٹھیکوں کا سلسلہ ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔
ٹیلی کام آپریٹرز ایسوسی ایشن نے پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004 کی شق 42(f) ختم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ براہ راست ٹھیکوں سے نجی شعبہ متاثر ہورہا ہے۔
ٹیلی کام آپریٹرز ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ کو خط لکھ دیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ جی ٹو جی معاہدوں نے نجی آئی ٹی اور ٹیلی کام کمپنیوں کے مواقع محدود کردیے ہیں۔
ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ سرکاری منصوبوں میں ایس او ایز اور نجی کمپنیوں کے لیے یکساں مسابقتی مواقع دیے جائیں۔ درخواست میں کہا گیا کہ جی ٹو جی کنٹریکٹنگ سے مقامی ڈیجیٹل مصنوعات اور خدمات کی ترقی متاثر ہورہی ہے۔
ٹیلی کام آپریٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق ریاستی اداروں کو ترجیحی معاہدے ملنے سے نجی شعبے میں غیر مساوی مسابقت پیدا ہورہی ہے۔ جی ٹو جی منصوبوں میں مسابقت نہ ہونے سے کارکردگی اور جدت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
خط میں ایس او ایز کی جانب سے جی ٹو جی منصوبے حاصل کرکے نجی ذیلی ٹھیکیداروں کو کام دینے پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ نجی شعبے نے حکومت سے پبلک پروکیورمنٹ میں شفاف اور مسابقتی عمل یقینی بنانے کا مطالبہ کردیا ہے۔