فیکٹ چیک: پنجاب بلدیاتی انتخابات میں امیدواروں کی تعلیمی قابلیت کا وائرل دعویٰ جعلی نکلا
پنجاب میں دسمبر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل سوشل میڈیا پر ایک گرافک گردش کر رہا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کونسلر کا انتخاب لڑنے کیلئے کم از کم ایف اے جبکہ یونین کونسل چیئرمین کیلئے بی اے کی تعلیم لازمی ہے۔
یہ دعویٰ غلط ہے۔
وائرل گرافک میں کیا دعویٰ کیا گیا؟
23 اگست کو فیس بک پر شیئر کیے گئے ایک گرافک میں دعویٰ کیا گیا کہ پنجاب کے آئندہ بلدیاتی انتخابات میں کونسلر کے امیدوار کیلئے ایف اے اور کریکٹر سرٹیفکیٹ جبکہ یونین کونسل چیئرمین کے امیدوار کیلئے بی اے اور کریکٹر سرٹیفکیٹ لازمی ہو گا۔
گرافک پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کا لوگو بھی موجود تھا جس سے بظاہر یہ تاثر ملتا تھا کہ مذکورہ شرائط خود الیکشن کمیشن نے جاری کی ہیں۔ یہی دعویٰ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی گردش کرتا رہا۔
🚨🚨 بریکنگ نیوز 🔥
بلدیاتی الیکشن میں کونسلر کیلئے تعلیمی قابلیت ایف اے اور کریکٹر سرٹیفیکیٹ چیئرمین کیلئے بی اے اور کریکٹر سرٹیفیکیٹ لازمی قرار
الیکشن کمیشن آف پاکستان
پنجاب میں الیکشن کمیشن کی ترجمان ہدیٰ علی گوہر نے بتایا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیر گردش گرافک الیکشن کمیشن نے جاری نہیں کیا اور یہ جعلی ہے۔
الیکشن کمیشن نے 28 اگست کو جاری کردہ پریس ریلیز میں بھی ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ یونین کونسل چیئرمین کیلئے بی اے، کونسلر کیلئے ایف اے اور امیدواروں کیلئے کریکٹر سرٹیفکیٹ لازمی قرار دینے سے متعلق معلومات درست نہیں۔
قانون میں کیا شرائط موجود ہیں؟
پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کی دفعہ 67 میں امیدواروں کی اہلیت اور نااہلی سے متعلق شرائط درج ہیں جن میں متعلقہ انتخابی فہرست میں رجسٹرڈ ہونا اور کم از کم مقررہ عمر سمیت دیگر تقاضے شامل ہیں۔
اس قانون میں کونسلر کیلئے ایف اے یا بلدیاتی حکومت کے سربراہ کیلئے بی اے کی تعلیمی قابلیت لازمی قرار نہیں دی گئی۔
اسی طرح پنجاب لوکل گورنمنٹ (الیکشن) رولز 2026 میں بھی ایف اے، بی اے یا کریکٹر سرٹیفکیٹ کو امیدواروں کیلئے لازمی اہلیت کے طور پر درج نہیں کیا گیا۔
نتیجہ:
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا یہ دعویٰ غلط ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق وائرل گرافک جعلی ہے جبکہ متعلقہ قانون اور انتخابی قواعد میں بھی کونسلر یا یونین کونسل چیئرمین کیلئے ایف اے، بی اے یا کریکٹر سرٹیفکیٹ کی ایسی کوئی لازمی شرط موجود نہیں۔