سندھ حکومت کا کچے کی زمینوں کی میپنگ اور جامع سروے کا فیصلہ، بجٹ منظور
فوٹو: فائل
سندھ حکومت نے کچے کی زمینوں کی میپنگ اور جامع سروے کا فیصلہ کرلیا ہے، اس حوالے سے باضابطہ بجٹ منظور کرلیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سی ایم ہاؤس میں صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔
سندھ کابینہ نے صوبے بھر میں کچے کی زمینوں کے جامع سروے اور نقشہ سازی کی منظوری دے دی۔
سندھ کابینہ نے ’’سروے آف کَچا لینڈ اِن سندھ‘‘ منصوبے کی منظوری دیتے ہوئے کچے کی زمینوں کے سروے کے لیے 70 کروڑ 50 لاکھ روپے بھی منظور کرلیے۔ کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سروے آف پاکستان کے ذریعے سروے حکومت سے حکومت یعنی جی ٹو جی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ کچے کی زمینوں کا جامع اور درست ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا، جبکہ سروے کا مقصد زمینوں کے انتظام، منصوبہ بندی اور ریونیو مینجمنٹ کو بہتر بنانا ہے۔ کچے کی زمینوں کی میپنگ سے ماحولیاتی تحفظ اور تجاوزات کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہ کیا گیا کہ منصوبہ 15.5 ماہ کی مدت میں مکمل کیا جائے گا۔ بورڈ آف ریونیو اور سروے آف پاکستان کے درمیان منصوبے کا معاہدہ جولائی 2026 میں طے پایا، جبکہ ’’سروے آف کَچا لینڈ اِن سندھ‘‘ منصوبے کو 31 مارچ 2026 کو اصولی منظوری دی گئی تھی۔
کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ کچے کی زمینوں کے سروے کے لیے نان اے ڈی پی اسکیم کی اصولی منظوری دی گئی تھی۔ سروے دو مراحل میں مکمل ہوگا، پہلے مرحلے میں کچے کی زمینوں کی حدود اور رقبے کا تعین کیا جائے گا، جبکہ سیٹلائٹ تصاویر، جی آئی ایس میپنگ اور جیوڈیٹک کنٹرول کا کام بھی ہوگا۔
پہلے مرحلے میں تصاویر کی پروسیسنگ اور کچے کی زمینوں کے رقبے کا حساب لگایا جائے گا۔ دوسرے مرحلے میں کیڈسٹرل میپنگ اور دیہہ، تعلقہ و ضلع کی سطح پر نقشہ سازی کی جائے گی، جبکہ زمین کے استعمال کی جیو ٹیگنگ اور حدود کی باقاعدہ نشاندہی بھی ہوگی۔
سندھ کابینہ کو بتایا گیا کہ کچے کی زمینوں کی پارسل لیول میپنگ بھی کی جائے گی۔ زمینوں کی ملکیت اور استعمال سے متعلق ڈیٹا جمع کیا جائے گا، جبکہ سروے کے بعد حتمی نقشے اور جامع سروے رپورٹس تیار کی جائیں گی۔
بریفنگ کے مطابق کچے کی زمینوں کا سروے حیدرآباد، سکھر، لاڑکانو اور شہید بینظیرآباد ڈویژنز میں ہوگا۔ چاروں ڈویژنز کے 613 دیہہ کچے کی زمینوں کے سروے میں شامل ہوں گے، جبکہ سندھ میں سروے کے لیے کچے کی زمین کا مجموعی رقبہ تقریباً 16 لاکھ 10 ہزار ایکڑ ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ درست نقشہ سازی اور دستاویز بندی شفاف لینڈ ایڈمنسٹریشن کے لیے ضروری ہے۔ کچے کی زمینوں کی درست میپنگ سے سرکاری اراضی پر غیرقانونی قبضے کی روک تھام میں مدد ملے گی اور ماحولیاتی تحفظ کو بھی فروغ ملے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بورڈ آف ریونیو اور سروے آف پاکستان کو منصوبہ بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ سروے میں درستگی اور شفافیت کے اعلیٰ ترین معیار کو یقینی بنایا جائے اور کچے کی زمینوں کے سروے کا کام مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔
بعد ازاں سندھ کابینہ نے بورڈ آف ریونیو کی تجویز پر کچے کی زمینوں کے جامع سروے کی منظوری دے دی، جس کے تحت صوبے کے متعلقہ ڈویژنز میں زمینوں کی حدود، رقبے، ملکیت اور استعمال سے متعلق جامع معلومات جمع کرکے درست نقشہ سازی اور دستاویز بندی کی جائے گی۔