سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس پر بحث کا دوسرا روز

چند لوگوں کی خواہش ہے کہ وہ سی ایم بن جائیں، سمعتا افضال

بلوچستان میں جعفر ٹرین پر حملہ کرکے 440 مسافروں کو یرغمال بنالیا گیا تھا

کراچی:

سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی تحریک التواء پر بحث کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری ہے۔

منگل کو سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا، تحریک التوا پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رکن سمعتا افضال نے کہا کہ سندھ ہماری ریڈ لائن ہے، میں کراچی کی نمائندگی کرتی ہوں اور سندھ کی بیٹی ہوں۔

سمعتا افضال نے کہا کہ کراچی سے کشمور تک کوئی بھی سندھ کی تقسیم نہیں چاہتا، سندھ میں بٹوارے کی بات مت کی جائے، چند لوگوں کی خواہش ہے کہ وہ سی ایم بن جائیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رکن افتخار عالم نے کہا کہ یہ مسئلہ ایک صوبے یا ایک شہر کا نہیں، یہ پاکستان کے ریاستی اداروں کا سوال ہے،  پاکستان کی آبادی گئی گنا بڑھ چکی ہے، کہیں نہ کہیں تو نا انصافیوں کا ازالہ ہونا چاہئے، عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹس کو سیاسی تناظر میں نہ دیکھا جائے، ہم سندھ توڑنے کی بات نہیں کر رہے، ہم اس ایوان میں اپنے عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، ایم کیو ایم پاکستان یہ بحث کسی قوم ثقافت کے خلاف نہیں کررہی۔ 

افتخار عالم کا کہنا تھا کہ ایک شہری کو بنیادی سہولیات چاہئیں، ایسی حکومت ہو جو عوام کے سامنے جوابدہ ہو، شہریوں کو فوری، شفاف اور جوابدہ حکومت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

پیپلز پارٹی کے رکن حسن علی شاہ نے کہا کہ یہ ایوان پورے سندھ کی نمائندگی کر رہا ہے، صوبہ بنانے کے لیئے اسمبلی میں دو تہائی اکثریت چاہئے، ہمیں سندھ کی تقسیم کبھی بھی منظور نہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ سندھ جو ریونیو دیتا ہے وہ پورا وفاق لے کر جاتا ہے، پیپلز پارٹی ہمیشہ اس بات کا اظہار کرتی ہے، اس ایوان نے پاکستان کو بنانے کی قراداد منظور کی تھی، یہ ایوان کبھی صوبے بنانے نہیں دے گا۔

پی ٹی آئی رکن اویس احمد نے کہا کہ نثار احمد کھوڑو نے تحریک التوا کیوں پیش کی؟، کیا سندھ کو بلوچستان بنانا چاہتے ہیں؟، مہاجر سندھی پشتون فسادات کرانا چاہتے ہیں؟۔
 
انہوں نے کہا کہ 28 ویں ترمیم کی بات ہو رہی ہے ہم اس کو تسلیم نہیں کرتے، یہ ملک آئین پر نہیں چل رہا، ہم چاہتے ہیں کہ سندھ کے عوام کا فیصلہ قبول کیا جائے، پاکستان عوام کسی آئینی ترمیم کو نہیں مانتے، وہ دن دور نہیں جب خان صاحب آکر فیصلہ کریں گے۔

پیپلز پارٹی کے رکن فاروق اعوان نے کہا کہ صوبوں کے مسئلے پر انارکی پیدا ہوگی، سندھ کی تقسیم مسائل کا حل نہیں ہے، ہمیں سندھ کی تقسیم نہیں سندھ کی تعلیم چاہئے، ہم سندھ کی سرحدیں تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔

فاروق اعوان نے کہا کہ میں پنجابی بولنے والا سندھی ہوں،  میرے ساتھ پشتو ، بلوچی، اردو بولنے والے سندھی ایوان میں موجود ہیں، سندھ پاکستان کی ضرورت ہے، سندھ نہیں رہتا تو پاکستان کا وجود نہیں رہتا، سندھ میں رہنا ہے تو سندھ سندھ کہنا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رکن دانیال احمد نے کہا کہ ہم پورے پاکستان میں انتظامی یونٹس کی بات کر رہے، ہم میں کسی نے بھی سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کی، سندھ کی جغرافیائی حدود وہ ہی رہیں گی۔  کراچی میں کسی بھی قومیت کا وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے، جب ضرورت پڑتی ہے تو بڑی عمارت بنائی جاتی ہے، آپ اکثریت میں ہیں لیکن 40 فیصد پی پی کو ووٹ ملا ہے۔

پیپلز پارٹی کی ندا کھوڑو نے کہا کہ نیا صوبہ صرف ایک نیا سیکریٹریٹ قائم کرنے کا نام نہیں، نیا صوبہ ایک آئینی ادارہ، قانون ساز اسمبلی، انتظامی بیوروکریسی اور مالی ڈھانچے پر مشتمل ہوتا ہے۔ نئے صوبے کے قیام سے سیاسی نمائندگی، اثاثوں، واجبات اور وسائل سے متعلق نئے سوالات پیدا ہوں گے، صوبوں کی بحث کو نعروں کے بجائے آئینی ذمہ داری اور سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔

ندا کھوڑو نے کہا کہ عوام تک حکومت پہنچانے کا جواب آئین میں پہلے سے موجود ہے، آئین کا آرٹیکل 140 اے سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کرنے کا پابند کرتا ہے، عوامی مسائل کے حل کے لیے مقامی حکومت کا نظام پہلے سے موجود ہے۔ 

 انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں لوکل گورنمنٹ کا نظام پہلے سے موجود ہے، حکومت کو نئے صوبوں کے بجائے موجودہ بلدیاتی نظام کو مؤثر بنانے پر توجہ دینی چاہئے، اگر مقصد اختیارات عوام تک پہنچانا ہے تو آرٹیکل 140 اے پر مکمل عملدرآمد کیا جائے، نئے صوبوں کے قیام سے پہلے موجودہ آئینی اور بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

Load Next Story