ایس سی او اجلاس؛ اسحاق ڈار کی مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، عالمی امور پر تبادلہ خیال
فوٹو: دفترخارجہ
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان مملکت کے اجلاس کے موقع پر ایس سی او کے سیکریٹری جنرل اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں کیں، جہاں علاقائی امن و سلامتی، دوطرفہ تعلقات، باہمی تعاون اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم کےسیکریٹری جنرل سے ملاقات میں پاکستان کی ایس سی او کی 27-2026 کی صدارت سے متعلق ترجیحات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا
اسحاق ڈار نے پاکستان کی ترجیحات اور مجوزہ حکمت عملی سےسیکریٹری جنرل کو آگاہ کیا جبکہ ایس سی او سیکریٹری جنرل نے پاکستان کی ترجیحات کی حمایت کرتے ہوئے ان کے فروغ کے لیے ایس سی او سیکریٹریٹ کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کی صدارت کے دوران قریبی رابطہ اور مؤثر رابطہ کاری جاری رکھی جائے گی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایس سی او سربراہی اجلاس کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی ملاقات کی اورعالمی چیلنجز سے نمٹنے اور مؤثر کثیرالجہتی نظام کے فروغ میں اقوام متحدہ کے کردار کو آگے بڑھانے کے لیے سیکریٹری جنرل کی قیادت کو سراہا۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کے مضبوط عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان اور اقوام متحدہ کے درمیان دیرینہ اور قریبی شراکت داری کو اجاگر کیا۔
ملاقات میں علاقائی صورت حال، آئندہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی تیاریوں اور سلامتی کونسل میں جاری امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کثیرالجہتی سفارت کاری میں پاکستان کے تعمیری اور اصولی کردار کو سراہتے ہوئے علاقائی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے انتونیو گوتریس کو دورہ پاکستان کی دعوت دی، جس سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے قبول کرلیا۔
دفترخارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورت حال پر گفتگو ہوئی، اسحاق ڈار نے خطے میں امن واستحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تنازع کے دونوں فریقین کا مخلصانہ عمل درآمد ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورت حال کے حوالے سے مسلسل رابطے اور سفارتی مشاورت کی اہمیت کا بھی اعادہ کیا۔
نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ کی بیلاروس کے وزیر خارجہ میکسم ریزنکوف سے بھی ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان اور بیلاروس کے درمیان دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورت حال اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ اسحاق ڈار اور ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف کے درمیان ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور بڑھتی ہوئی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا اور دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترکیہ کی قومی انٹیلی جنس تنظیم کے ڈائریکٹر ابراہیم قالن سے ملاقات میں علاقائی صورت حال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور اس کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس پر بھی گفتگو ہوئی۔
فریقین نے علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے مسلسل رابطہ کاری اور سفارتی روابط کی اہمیت پر زور دیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا، ملاقات میں نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 2026 کے اجلاس اور اقوام متحدہ کے آئندہ سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے جاری عمل پر بھی گفتگو کی گئی۔
اسحاق ڈار نے آرمینیا کے وزیر خارجہ ارارات مرزویان سے ملاقات کی،، جس میں پاکستان اور آرمینیا کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو ایک سال مکمل ہونے پر دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا اور علاقائی و عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔