امریکا کے ایران پر متعدد فضائی حملے؛ پاسداران انقلاب کے ٹھکانے تباہ کرنے کا دعویٰ
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد امریکا نے آج پھر ایران کے مختلف اہداف کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے بیان میں کہا گیا ہے ایران کی پاسداران انقلاب نے تجارتی جہازوں اور خطے میں موجود امریکی فوجیوں کے خلاف مبینہ حملوں کی کوششوں کے جواب میں نئی عسکری کارروائی کی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج نے ایران میں اسلامی پاسداران انقلاب کے ٹھکانوں کو قسیم اور بندر عباس میں فضائی حملوں کا نشانہ بنایا اور شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق آبنائے ہرمز کے شمالی حصے میں واقع قشم جزیرے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جب کہ بندر عباس اور خلیج عمان کے ساحل پر واقع اہم بندرگاہی شہر چابہار میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔
تاہم ابتدائی اطلاعات میں یہ واضح نہیں کیا کہ ان علاقوں میں امریکی حملوں میں کون کون سے اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور ان کارروائیوں میں کتنا جانی یا مالی نقصان ہوا ہے۔
واشنگٹن کا الزام ہے کہ ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے خلاف کارروائیوں کی کوشش کی اور خطے میں تعینات امریکی اہلکاروں کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی ایران کی مبینہ ناکام کوشش کے جواب میں کی گئی۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے امریکی حملوں کا جواب دیا تو اسے اس سے بھی زیادہ سخت اور بڑے پیمانے پر کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ادھر ایرانی مسلح افواج کے مرکزی ہیڈکوارٹر نے ان حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں جارحانہ کارروائیاں جاری رکھیں تو اسے مزید شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
واضح رہے کہ دونوں ممالک نے گزشتہ رات سے ایک دوسرے کے خلاف رات بھر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جو ایک ماہ سے زائد عرصے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست فائرنگ کا پہلا بڑا تبادلہ تھا۔