ایران کا جوابی وار، بحرین، اردن اور عراق میں امریکی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرون سے نشانہ بنا دیا

امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی یکم ستمبر کو ایران میں مختلف اہداف کے خلاف ایک نئی کارروائی کی تصدیق کی ہے

تہران: ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے، ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فورسز نے بحرین، اردن اور عراق میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق ایران نے یہ کارروائیاں امریکا کی جانب سے ایران پر تازہ حملوں کے جواب میں کی ہیں، امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی یکم ستمبر کو ایران میں مختلف اہداف کے خلاف ایک نئی کارروائی کی تصدیق کی ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اردن میں پرنس حسن ایئر بیس اور ایک امریکی میرین بیس کو بھاری بیلسٹک میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں ان امریکی حملوں کے جواب میں کی گئیں جن میں ایرانی شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج کے پاس واشنگٹن کے لیے ’ناقابل فراموش سبق‘ موجود ہیں۔ یہ ان کا ایسا پہلا بیان ہے جو امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

دوسری جانب خلیجی ممالک میں بھی سکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہوگئی ہے۔ کویت نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام ڈرون حملوں کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کررہے ہیں، جبکہ بحرین نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے آنے والے ایرانی ڈرونز کو روک کر تباہ کردیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فورسز نے یکم ستمبر کو ایران میں مختلف اہداف کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر مکمل کی۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں تجارتی جہازوں اور امریکی فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی مبینہ ایرانی کوششوں کے بعد کی گئیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی ملک کے جنوبی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔ ان علاقوں میں عسلویہ، جیرفت، بندر عباس، قشم جزیرہ، کنارک، چابہار، جاسک، سیریک اور لاوان شامل ہیں۔

ایرانی ہلال احمر کے مطابق سیریک میں ایک گھر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہاں شادی کی تقریب جاری تھی۔ امدادی ادارے کے مطابق حملے میں کم از کم 4 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے، جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اس واقعے نے جنگ کے انسانی اثرات کے حوالے سے تشویش مزید بڑھا دی ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ امریکی حملوں میں عام شہری بھی متاثر ہورہے ہیں، جبکہ امریکا اپنی کارروائیوں کو فوجی اور سکیورٹی خطرات کا جواب قرار دیتا ہے۔

ایران کی جانب سے بحرین، اردن اور عراق میں امریکی اہداف پر حملوں کے دعوے اور امریکا کی جانب سے ایران میں نئی کارروائیوں نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔ اگر دونوں جانب سے فوجی حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے اثرات خلیجی ممالک، عالمی توانائی کی منڈی اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

تاہم ایران کی جانب سے مختلف امریکی اڈوں پر حملوں اور ان سے ہونے والے نقصانات کے دعوؤں کی تمام تفصیلات کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

Load Next Story