گزشتہ 2 سالوں میں 18.2 ملین سمز بند کی گئیں، واٹس ایپ ہیکنگ کو مکمل ختم کرنے جا رہے ہیں، حکام
قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی داخلہ کے اجلاس میں آن لائن فراڈ، غیر قانونی سمز کے اجراء، بینکنگ اسکیمز اور پی ٹی اے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
این سی سی آئی اے حکام کے مطابق فیصل آباد میں کل ایک ایف آئی آر ہوئی، جبکہ اگلے چند مہینوں میں واٹس ایپ ہیکنگ تقریباً ختم ہوجائے گی۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ فراڈ میرے ساتھ بھی ہوا ہے، اکثر مجھے فراڈیوں کی کال آتی ہے، بتایا جائے میرے انگوٹھے کے نشان فراڈیے تک کیسے جارہے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں 18.2 ملین سمز بند کی گئیں، جبکہ ایک سال میں ٹیلی کام کمپنیوں کو 4.2 ارب روپے جرمانے کیے گئے۔
چیئرمین کمیٹی نے انکشاف کیا کہ انہیں روانہ کی بنیاد پر فیک کالز موصول ہو رہی ہیں۔ چیئرمین کمیٹی کے مطابق ہر ہفتے کال آتی ہے کہ آپ کا کورئیر آیا ہوا ہے، انہیں کہا جاتا ہے کہ پارسل گھر بھیج دیں۔
چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کہ ان کے نام پر موجود سم ہیکرز کے پاس کیسے پہنچی اور انگوٹھے کا نشان ہیکرز تک کیسے جاتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ہیکرز ان کے انگوٹھے کے نشان سے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرکے پیسے کیسے لوٹ سکتے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ پاکستان میں 2009 سے پہلے سم جاری کرنے کی کوئی پالیسی نہیں تھی، 2014 کے بعد سم جاری کرنے کی پالیسی آئی جبکہ گزشتہ دو سال میں سم جاری کرنے کی پالیسی میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق ماضی میں سمز فرنچائز کے ذریعے ایکٹیو کی جاتی تھیں اور انہیں پابند کیا گیا۔ مشین 10 میٹر تک محدود کردی گئی ہے، اس کے باہر وہ کام نہیں کرے گی۔ سم ایک سال تک نام پر رہے گی تاکہ تمام چیزیں ریکارڈ پر موجود رہیں۔
چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ ڈیڑھ سال کے دوران این سی سی آئی اے کے ساتھ مل کر 110 کارروائیاں کی گئیں، کارروائیوں کے دوران 29 ہزار سمز ملیں اور 171 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ 6 لاکھ افراد کے بائیو میٹرک موصول ہوئے۔
چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق لوگوں کے بائیو میٹرک نادرا، ایئرپورٹ، جیل اور ڈرائیونگ لائسنس کے لیے محفوظ ہوتے ہیں۔ 18.2 بلین سمز کو بلاک کیا گیا جبکہ کمپنیز کو 4.2 بلین روپے جرمانہ کیا گیا۔ گزشتہ دو سال میں 1.8 غیر قانونی سمز بند کی گئی ہیں اور غیر قانونی سمز پر 6 ماہ میں 4.2 ارب روپے جرمانے بھی کیے گئے۔
این سی سی آئی اے حکام نے بتایا کہ واٹس ایپ ہیکنگ کو مکمل ختم کرنے جا رہے ہیں۔ وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ واحد طریقہ یہی ہے کہ فیشل یا آئرس کی شناخت سے بند اکاؤنٹ اور سم جاری ہو۔
ممبر کمیٹی نے کہا کہ کیوں نہ کمیٹی یہ ہدایت کرے کہ ٹیلی موبائل کمپنیز اور بینک یہ جدت لائیں۔ ڈی آئی جی ٹریفک اسلام آباد نے بتایا کہ ڈرائیونگ لائسنس کو پیپر لیس کردیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی داخلہ کمیٹی کے اجلاس میں اسلام آباد کے تھانوں کی حالت پر بھی بات ہوئی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ تھانوں کی حالت انتہائی خراب ہے، مقدمات درج نہیں ہوتے جبکہ منشیات فروش شہر میں دندناتے پھر رہے ہیں۔
وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ پولیس سے متعلق کمیٹی سیف سٹی میں رکھی جائے، مکمل بریفنگ دی جائے گی۔ ڈی آئی جی ہارون جوئیہ نے بتایا کہ سیف سٹی نے 132 مختلف گینگ گرفتار کیے ہیں۔ گزشتہ دنوں کا آڈٹ کیا جائے تو 28 فیصد کرائم کم ہوا ہے۔
چیئرمین راجہ خرم نواز نے کہا کہ ہائی پروفائل کیس جلدی ٹریس ہوتے ہیں، کار لفٹنگ بھی کنٹرول ہے، تاہم منشیات عام ہے۔ ڈی آئی جی ہارون جوئیہ نے بتایا کہ اسلحے کے خاتمے کے لیے خصوصی مہم بھی شروع کی گئی ہے۔
ممبر کمیٹی خواجہ اظہار الحسن نے سوال کیا کہ آپ کہتے ہیں کرائم کم ہوا، تفصیلات فراہم کی جائیں کہ کون سا کرائم کم ہوا۔ کمیٹی چیئرمین نے کرائم سے متعلق ڈیٹا آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا۔
ایس ایس پی علی رضا قاضی نے بتایا کہ گزشتہ دو سال میں منشیات کے خلاف چار ہزار 8 ماہ 12 سو مقدمات ہوئے، منشیات کی تمام اقسام کے ڈیلرز شامل ہیں۔
ایس ایس پی کے مطابق پنڈوریاں، شہزاد ٹاؤن اور بنی گالہ میں منشیات فروشی زیادہ عام ہے۔ ان تمام علاقوں کے 57 منشیات فروش اپنا علاقہ بند کرچکے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ لوگوں کے احتجاج پر منشیات کے خلاف آئی جی سے میٹنگ کی، دو دن بند وائس چیئرمین قتل ہوگیا۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ لمبے عرصے سے تعینات افسران کو تھانوں سے بھی تبدیل کیا جائے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جو کرنا ہے کریں مگر منشیات کا اسلام آباد سے خاتمہ کرنا ہوگا۔