صوبے آبادی کے حساب سے نہیں بلکہ ضرورت کے حساب سے بنائے جاتے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے آبادی کے حساب سے نہیں بلکہ ضرورت کے حساب سے بنائے جاتے ہیں، سندھ کی انتظامی تقسیم کے خلاف اپوزیشن نے ایسی تقاریر کیں کہ ہمیں شرمندگی ہوئی مگر پھر قرارداد پاس ہونے سے قبل حزب اختلاف نے واک آؤٹ کیا تو بلی تھیلی سے باہر آگئی۔
سندھ اسمبلی میں تحریک التوا پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کی تقسیم اور انتظامی یونٹس کے حوالے سے تحریک التوا پیش کرنے پر نثار کھوڑو کو مبارک باد پیش کرتا ہوں، اس کا مقصد یہ تھا کہ سب اس معاملے پر بات کریں اور سندھ کی وحدانیت پر متفق ہوں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ تحریک التوا کے دوران اپوزیشن اراکین نے سندھ کی تقسیم کے خلاف ایسی تقاریر کیں جنہیں سن کر ایسی محسوس ہوا کہ شاید ہم نے غلطی کردی اور شرمندگی ہوئی مگر بلی اُس وقت تھیلے سے باہر آئی جب قرارداد پاس ہونے سے قبل ایم کیو ایم، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے رکن واک آؤٹ کرگئے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے اراکین ایک روز پہلے تک ہماری قرارداد کی حمایت کررہے تھے آج سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہوگیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بات کی جارہی ہے کہ آبادی بڑھ گئی تو صوبے بنائے جائیں، بھارت میں کتنے صوبے ہیں، مجھے معلوم نہی مگر انتظامی طور پر جتنی ضرورت ہو اتنے صوبے بننے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض لوگ دوسرے ممالک کی مثالیں دیتے ہیں، لیکن ہر ملک کے حالات اور ضروریات مختلف ہوتی ہیں، امریکا میں 400 سال کے دوران صرف تین صوبے بنے اور 1863 میں آخری صوبہ بنا جبکہ اُس کے بعد آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ڈیموں کی مثال دیتے ہوئے بھی مختلف ممالک کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ وہاں اتنے ڈیم ہیں، ہر ملک کی جغرافیائی صورتحال اور پانی کے وسائل مختلف ہوتے ہیں، اسی حساب سے ڈیم بنائے جاتے ہیں، جس ملک میں پانی کے وسائل زیادہ ہوں وہاں ڈیموں کی ضرورت بھی مختلف ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مثالیں دینے کے بجائے اپنے ملک کی ضروریات اور زمینی حقائق کو سامنے رکھنا چاہیے، صوبے آبادی کے حساب سے نہیں بلکہ ضرورت اور انتظامی تقاضوں کے مطابق بنتے ہیں، سندھ ایک متحد صوبے کی حیثیت سے پاکستان میں شامل ہوا اور پاکستان بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ پاکستان کے قیام کے وقت ایک متحد صوبے کے طور پر پاکستان کا حصہ بنا تھا، یہ کہنا کہ آبادی تین کروڑ سے بڑھ کر پچیس کروڑ ہوگئی، اس لیے مزید صوبے بننے چاہئیں، درست دلیل نہیں، اگر آبادی بڑھنے کو ہی نئے صوبوں کی بنیاد بنایا جائے تو دنیا کے ہر ملک کا انتظامی ڈھانچہ اسی اصول پر تبدیل ہونا چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کو آبادی کے اعدادوشمار تک محدود نہیں کیا جاسکتا، کراچی: امریکا کی مثال دینے والوں کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ امریکا نے اپنے قیام کے بعد ریاستوں میں اضافہ کس تاریخی عمل کے تحت کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سے ارب پتی بننے والے لوگ اس طرح کے فیصلوں کی باتیں کررہے ہیں، میرے بڑے 1200 سال پہلے سندھ آئے اور انہوں نے سندھ کو اپنایا تو میرے والد پھر میں آج وزیراعلیٰ ہوں، آپ نے
ایسا نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کو اپنا مانو تو عوام تمھیں عزت دیں گے، سید کو تو بہت احترام سے دیکھا جاتا ہے، سندھ سے دغا نہ کریں بلکہ محبت کریں تو پاکستان سے بھی محبت ہوگی، ہم رہیں نہ رہیں سندھ کو رہنا ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ بلی تھیلے سے باہر آگئی، یہ کہتے ہیں انتظامی یونٹس صوبے بن جائیں گے، ہمت ہے تو اسمبلی میں کہہ دو ، یہ انتظامی یونٹس ہی وزیر اعلی منتخب کریں گے ، بلی کو خواب میں چھچھڑے ۔ کس کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے، یہ اپنے لوگوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نثار احمد کھوڑو نے ٹھیک کیا، تحریک التوا اس لیئے لائے کہ اسمبلی میں بات کریں۔ بھارت کا ایک صوبہ 24 کروڑ کا ہے، ایک صوبہ 6 لاکھ کا بھی ہے، سب کی اپنی ضرورت ہے، سندھ نے پاکستان کو بنایا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ تحریک التوا ایک مخصوص موضوع پر ہوتا ہے، بحث صوبوں کے مسئلے پر تھی یہ پتہ نہیں کیا کیا بولتے رہے، ہم نے کہا کہ جو اول فول بکنا ہے بکیں۔ ورنہ بولتے ہمیں بات کرنے نہیں دیا جا رہا ہے، یہ باتیں ایسی کر رہے تھے کہ ہمیں شرمندہ کردیا۔