اسرائیل کا غزہ سے فلسطینیوں کو بیدخل کرنے کا منصوبہ؛ کن ممالک میں آباد کیا جائے گا؟
غزہ سے 20 لاکھ فلسطینیوں کو بیدخل کرکے بیرون ملک بھیجا جائے گا؛ (اے آئی سے بنوائی گئی تصویر)
اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اور سخت گیر دائیں بازو کے رہنما اِیتمار بن گویر نے غزہ کی پٹی سے تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کو سات برس کے دوران بیدخل کرنے کا منصوبہ پیش کردیا۔
اسرائیلی میڈیا چینل 14 کے مطابق ایتمار بن گویر کی جماعت ’اوتزما یہودیت‘ نے اس منصوبے کو ’ڈس انگیجمنٹ 710 کا نام دیا ہے۔ منصوبے میں غزہ کی آبادی کو مرحلہ وار باہر منتقل کرنے کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔
اس متنازع اور غیر انسانی منصوبے کے تحت پہلے سال میں 2 لاکھ 50 ہزار فلسطینیوں کو غزہ سے باہر منتقل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
اس کے بعد تین سال کے اندر تقریباً 11 لاکھ اور سات سال کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 20 لاکھ افراد کو غزہ سے منتقل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گویر کی جماعت اس عمل کو ’رضاکارانہ ہجرت‘ قرار دیتی ہے تاہم منصوبے کی تفصیلات اور غزہ میں جاری جنگ کی صورتحال کے تناظر میں ناقدین اسے فلسطینی آبادی کی جبری بے دخلی کے منصوبے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
’ہجرت کی وزارت‘ بنانے کی تجویز
اس منصوبے کا ایک اہم حصہ اسرائیل میں ایک نئی وزارتِ ہجرت کا قیام ہے جس کا اپنا بجٹ، وزیر اور بین الاقوامی مذاکراتی ادارہ ہوگا۔
انتہا پسند جماعت ’’اوتزما یہودیت‘‘ نے واضح کیا ہے کہ آئندہ انتخابات کے بعد کسی بھی حکومت میں شمولیت کے لیے وزارتِ ہجرت کا قیام اس کی ناقابلِ مذاکرات اتحادی شرط ہوگا۔
منصوبے کے تحت اس نئی وزارتِ ہجرت کے ذریعے غزہ سے منتقل ہونے والے فلسطینیوں کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ مذاکرات اور ان کی آبادکاری کے انتظامات کی ذمہ دار ہوگی۔
جبری طور پر بیدخل کیے گئے فلسطینیوں کو کہاں آباد کیا جائے گا
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ابتدائی تیاریوں کے دوران فلسطینیوں کی ممکنہ منتقلی کے لیے ترکیہ، ایتھوپیا، جمہوریہ کانگو اور بعض عرب ممالک کے نام زیر غور آئے ہیں۔
منصوبے میں ان افراد کے لیے مالی و انتظامی معاونت بھی شامل ہے جو غزہ سے باہر منتقل ہوں گے۔
اسرائیلی ریاست سفر کے اخراجات، رہائش اور روزگار کی تربیت جیسے پیکیجز فراہم کرنے کی تجویز دے رہی ہے، جبکہ یہ سہولیات 24 ماہ تک جاری رکھنے کی بات کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ مختلف ممالک اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ ایسے مالیاتی انتظامات بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے جس کے تحت اخراجات میں بیرونی تعاون حاصل کیا جاسکے۔
’رضاکارانہ ہجرت‘ یا جبری بے دخلی؟
منصوبے کا سب سے حساس پہلو اس کی اصطلاح ہے۔ بن گویر کی جماعت فلسطینیوں کی منتقلی کو ’رضاکارانہ ہجرت‘ قرار دیتی ہے۔
تاہم غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی، نقل مکانی اور انسانی بحران کے دوران فلسطینیوں کو علاقے سے باہر منتقل کرنے کی کسی بھی حکمت عملی کو عالمی سطح پر شدید مخالفت کا سامنا ہوسکتا ہے۔
فلسطینیوں کی جبری بے دخلی بین الاقوامی قانون کے تحت ایک انتہائی سنگین معاملہ تصور کی جاتی ہے، اس لیے اس منصوبے پر عمل درآمد کی صورت میں اسرائیل کو عالمی سطح پر سخت سیاسی اور قانونی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جبری بیدخلی کے منصوبے پر اسرائیلی سیاست میں بھی بحث متوقع
بن گویر طویل عرصے سے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ فلسطینی آبادی کو علاقے سے باہر منتقل کرنے کے خیالات کی حمایت کرتے رہے ہیں۔
تازہ منصوبہ ان کے سیاسی ایجنڈے کو ایک باقاعدہ حکومتی ڈھانچے میں تبدیل کرنے کی کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے، جس میں مخصوص اہداف، بجٹ اور بین الاقوامی مذاکرات کے لیے الگ وزارت قائم کرنے کی تجویز شامل ہے۔