سندھ میں 30 سال سے قائم سیاسی اجارہ داری کا خاتمہ ہوگا، سہیل آفریدی
فوٹو: پی ٹی آئی فیس بک
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے حکمران اتحاد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں اقتدار صرف دو خاندانوں تک محدود کر دیا گیا ہے، ایک خاندان سندھ اور دوسرا پنجاب میں نسل در نسل اقتدار پر قابض ہے لیکن اب سندھ میں 30 سال سے قائم سیاسی اجارہ داری کا خاتمہ ہوگا۔
اسٹریٹ موومنٹ کے تحت دورہ سندھ کے چوتھے روز حیدرآباد میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ حیدرآباد سمیت پورے ملک میں عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا ہے، چور دروازوں اور جعلی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار میں آنے والے عوام کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کا ہر رکن صوبائی اسمبلی اور رکن قومی اسمبلی جو پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) سے نہیں، وہ عوام کے مینڈیٹ کا چور اور ڈاکو ہے، عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈال کر اقتدار میں آنے والوں نے پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے۔
سہیل آفریدی نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو کہتے ہیں کہ بھارت ہمارا دشمن ہے جبکہ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈال کر بننے والے جعلی حکمران کہتے ہیں کہ انڈیا سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں بلکہ پاکستان کے چھوٹے صوبوں سے خطرہ ہے، ہمیں بتایا جائے کہ کون صحیح کہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو یہ بیان دیتے ہیں کہ ہمیں انڈیا سے کوئی خطرہ نہیں، آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے کاروبار سارے انڈیا میں ہیں، جندال ان کا دوست ہے، مودی بغیر ویزے کے ان کے گھر آتا ہے، مودی کا یار پاکستان کا غدار ہے، بھارت کا یار پاکستان کا غدار ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ جب چور، ڈاکو اور لٹیرے مشکل میں پھنس جاتے ہیں اور ان کے ذاتی مفادات قومی مفادات سے ٹکراتے ہیں تو وہ پاکستان کے بجائے اپنے مفادات کا دفاع کرتے ہیں، اپنے مفادات کے لیے یہ لوگ اداروں پر حملے کرواتے ہیں، پارلیمنٹ پر حملے کرواتے ہیں اور دشمن کا بیانیہ پروموٹ کرتے ہیں، یہ لوگ نہ پہلے پاکستان کے ساتھ مخلص تھے، نہ آج پاکستان کے ساتھ مخلص ہیں اور نہ کل پاکستان کے ساتھ مخلص ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے ہمیشہ پاکستانی عوام کے خون پسینے اور ٹیکس کی کمائی کو لوٹا، عوام کا پیسہ بیرون ملک لے گئے اور وہاں جائیدادیں اور پلازے خریدے، ان حکمران خاندانوں نے ہمیشہ اپنے ذاتی مفادات کو پاکستان اور پاکستانی عوام کے مفادات پر ترجیح دی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اقتدار دو خاندانوں تک محدود کرکے رکھ دیا گیا ہے، ایک خاندان سندھ اور دوسرا پنجاب میں نسل در نسل اقتدار پر قابض ہے، پنجاب میں پہلے نواز شریف، پھر ان کے بھائی اور اب ان کی بیٹی اقتدار خاندان سے باہر نہیں جانے دیا گیا جبکہ سندھ میں پہلے نانا، پھر ان کی بیٹی، پھر ان کے شوہر اور اب ان کا بیٹا اقتدار میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری طرف عمران خان ہیں جنہوں نے ایک عام کارکن کو اقتدار میں آنے کا موقع دیا، عمران خان نے مجھے منتخب کیا، میں آپ کی طرح ایک عام ورکر ہوں، میں بھی آپ کی طرح جلسوں میں جاتا تھا، کبھی پیدل، کبھی سائیکل، کبھی رکشے اور کبھی ٹیکسی پر، عمران خان میں یہ جگر ہے کہ وہ اپنے عام کارکن کو آگے آنے کا موقع دیتا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں کے لیے اب وقت آگیا ہے کہ وہ ملک کے مستقبل کا فیصلہ خود کریں، پاکستان کے اقتدار کی اگلی باری آپ کی ہے، آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ پاکستان میں کس کی حکومت ہوگی اور پاکستان کے مستقبل کے فیصلے آپ کو خود کرنے ہیں، یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب نوجوان اور عوام کھڑے ہوں گے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ 27 ستمبر کو ہمیں صرف عمران خان کے لیے نہیں بلکہ پاکستان، پاکستانی عوام، اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے کھڑا ہونا ہے، 27 ستمبر پاکستان کی تاریخ اور تقدیر بدلنے کا دن ہوگا، عوام بندوق کے زور پر مسلط نظام اور عوام کو دبانے والوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام بھی تبدیلی کے لیے تیار ہیں، ان شا اللہ سندھ میں 30 سال سے قائم سیاسی اجارہ داری کا خاتمہ ہوگا اور سندھ میں پاکستان اور انصاف کی حکومت قائم ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز ایک ٹویٹ کے ذریعے خوش آمدید کہا تھا، مگر آج قافلے کے راستوں میں خندقیں کھودی گئیں اور کنٹینرز رکھ کر سڑکیں بند کی گئیں، جو کسی بھی صورت مناسب نہیں۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ سندھ کے غیور، باشعور اور مہمان نواز عوام اپنے مہمانوں کے ساتھ اس قسم کا رویہ ہرگز قبول نہیں کریں گے، اگر یہ تمام اقدامات حکومت سندھ کی جانب سے کیے جا رہے ہیں تو حکومت سندھ اس کی ذمہ داری قبول کرے اور اگر حکومت سندھ اس میں ملوث نہیں تو پھر عوام کو واضح طور پر بتایا جائے کہ یہ سب کون کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری قوم جانتی ہے کہ ان کے راستے کون بند کر رہا ہے، اس لیے حکومت سندھ پر لازم ہے کہ یا تو اس کی ذمہ داری قبول کرے یا پھر اس حوالے سے اپنی واضح پوزیشن سامنے لائے۔