جن کے پاس دوا کے پیسے نہیں، ان کے ٹیکس پر عدالتیں چلتی ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ

عدالت کا ایک دن کا خرچہ 12 کروڑ روپے ہے، عدالتوں کے بائیکاٹ سے عوام کے کروڑوں روپے ضائع ہوتے ہیں، چیف جسٹس

پشاور:

چیف جسٹس پشاور  ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ جن کے پاس دوا کے پیسے نہیں، ان کے ٹیکس پر عدالتیں چلتی ہیں۔

پشاور ہائیکورٹ کے عدالتی سال 2026-27 کی افتتاحی تقریب کورٹ روم نمبر ایک میں  منعقد ہوئی، جس میں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور دیگر ججز شریک ہوئے، جبکہ پشاور ہائیکورٹ بار، ایڈیشنل اٹارنی جنرل، کے پی بار کونسل اور ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا بھی شریک تھے۔

ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلا کی کار پارکنگ کا مسئلہ جلد حل ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ لا یونیورسٹی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں اور اس سال ان شا اللہ لا یونیورسٹی قائم ہوجائے گی۔

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے پاس محدود مالی وسائل ہیں۔ ساتویں این ایف سی کے بعد کوئی این ایف سی نہیں ہوا، اگر خیبرپختونخوا حکومت کو این ایف سی میں اپنا حصہ مل جائے تو کئی مسائل حل ہوجائیں گے۔

انہوں نے پشاور ہائیکورٹ سے درخواست کی کہ این ایف سی ایوارڈ سے متعلق درخواست سماعت کے لیے مقرر کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی میں صوبے کا حصہ ملنے سے متعدد مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مردان میں گواہوں کے پیش ہونے کی شرح 96 فیصد رہی۔ عدالتوں کو ڈیجیٹل سسٹم میں تبدیل کیا گیا اور ڈیجیٹل ریکارڈ مینجمنٹ بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

انہوں  نے بتایا کہ پشاور ہائیکورٹ کے ہیومین رائٹس سیل میں ایک ہزار 79 درخواستیں موصول ہوئیں۔ پشاور، ایبٹ آباد، بنوں اور سوات میں 7 ڈبل ڈویژن عدالتیں قائم کی گئی ہیں۔ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا کہ عدالتوں کے لیے اے ڈی پی میں بجٹ الاٹمنٹ 2 ارب روپے سے بڑھا کر 6 ارب روپے کردی گئی ہے۔

چیف جسٹس نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں عدالت کا ایک دن کا خرچہ 12 کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن عدالتوں کے بائیکاٹ سے 12 کروڑ روپے عوام کے ضائع ہوتے ہیں۔  چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کے پاس دوائی کے پیسے نہیں، ان کے ٹیکس پر عدالتیں چلتی ہیں، اس لیے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ غریب عوام کو انصاف فراہم کریں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ عدالتی سال میں 38 ہزار کیسز نمٹا دیے گئے۔ گزشتہ عدالتی سال میں ہزاروں کیسز کی التوا ختم کردی گئی، جس سے عدالتی امور میں پیش رفت ہوئی۔

Load Next Story