جرمنی کے ریاستی الیکشن میں انتہائی دائیں بازو کی مسلم دشمن جماعت کی تاریخی کامیابی
اے ایف ڈی نے مسلمان مہاجرین سے متعلق سخت گیر مؤقف اپنایا اور غیر جرمن کو ملک سے نکالنے پر زور دیا
جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی نے مشرقی ریاست سیکسنی انہالٹ کے انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی نے 44.7 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ 83 رکنی پارلیمان میں سے 39 نشستوں پر فتح حاصل کی۔
تاہم وہ واضح اکثریت حاصل نہیں کرپائے ملیں جس کے لیے 42 نشستیں درکار ہوتی ہیں یعنی حکومت کی تشکیل کے لیے جماعت اے ایف ڈی کو اب بھی صرف تین نشستیں درکار ہیں۔
خیال رہے کہ کہ آلٹرنیٹیو فار جرمنی کی 13 سالہ تاریخ کا سب سے بڑا انتخابی کامیابی کا مرحلہ ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی کسی جماعت کے لیے ریاستی سطح پر اقتدار کے اتنا قریب پہنچنے کی ایک غیر معمولی مثال ہے۔
روایتی سیاسی جماعتوں کے لیے بڑا دھچکا
اے ایف ڈی کی کامیابی کے برعکس جرمن چانسلر فریڈرک مرٹس کی حکمراں جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین کو شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا جو تقریباً 16.9 فیصد ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہی۔
ای طرح سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے 9.1 فیصد، گرین پارٹی نے تقریباً 8.9 فیصد اور دی لنکے نے 8.4 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ بائیں بازو کی پاپولسٹ جماعت بی ایس ڈبلیو بھی 5.2 فیصد ووٹ لے کر پارلیمان میں داخل ہوگئی۔
اے ایف ڈی حکومت کیسے بنا سکتی ہے؟
جرمنی کی مرکزی دھارے کی بڑی سیاسی جماعتیں طویل عرصے سے اے ایف ڈی کے ساتھ اتحاد یا باضابطہ تعاون سے انکار کرتی رہی ہیں۔ اسے جرمن سیاسی نظام میں "فائر وال" پالیسی کہا جاتا ہے جس کا مقصد انتہائی دائیں بازو کی جماعت کو اقتدار سے دور رکھنا ہے۔
اے ایف ڈی کی ریاستی شاخ کو جرمنی کی داخلی انٹیلی جنس نے انتہائی دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت قرار دیا ہے جبکہ اس کی سیاست میں سخت گیر امیگریشن مخالف مؤقف نمایاں ہے۔
اے ایف ڈی کے سامنے ایک ممکنہ راستہ بائیں بازو کی جماعت بی ایس ڈبلیو کے ساتھ اقتدار کے اشتراک کے لیے حکومتی اتحاد ہوسکتا ہے جس نے پارلیمان میں داخلے کے لیے مطلوبہ 5 فیصد کی حد عبور کرلی ہے۔
تاہم اے ایف ڈی کے مقامی رہنما اولریش زیگمنڈ نے اس جماعت کے ساتھ اتحاد میں دلچسپی نہ ہونے کا عندیہ دیا ہے جبکہ پارٹی کی شریک سربراہ ٹینا کروپالا نے دیگر جماعتوں سے بات چیت کے لیے "ہاتھ بڑھانے" کی بات کی ہے۔
اگر کوئی جماعت اے ایف ڈی کے ساتھ اتحاد کے لیے تیار نہ ہوئی تو ریاست میں اقلیتی حکومت یا کسی غیر معمولی سیاسی بندوبست کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔
اے ایف ڈی کی کامیابی کی وجہ کیا بنی؟
اے ایف ڈی نے انتخابی مہم میں سب سے زیادہ زور امیگریشن، جرمن قومی مفادات، مہنگائی، معاشی مشکلات اور روایتی سیاسی جماعتوں سے عوامی مایوسی پر دیا۔
جماعت نے "ری مائیگریشن" یعنی ایسے غیر جرمن افراد کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے کی پالیسی کو بھی اپنی مہم کا اہم حصہ بنایا جن کے بارے میں وہ سمجھتی ہے کہ انہیں جرمنی میں رہنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔
اے ایف ڈی روس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور یوکرین کے لیے مزید فوجی و مالی امداد کی مخالفت بھی کرتی ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے متعدد مواقع پر روس کے ساتھ زیادہ قریبی تعلقات اور جرمنی کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔
پارٹی کے مقامی رہنما اولریش زیگمنڈ نے انتخابی کامیابی کے بعد کہا کہ جرمنی کو روس اور امریکا دونوں کے ساتھ "معقول سفارت کاری" کی ضرورت ہے۔
اے ایف ڈی کی شریک سربراہ ایلس وائیڈل نے بھی کہا کہ جرمن عوام ایسی پالیسیوں سے تنگ آچکے ہیں جو ان کے بقول جرمنی کے مفادات کے خلاف ہیں۔
انتخابی نتائج پر جرمن چانسلر فریڈرک مرٹس نے تسلیم کیا کہ یہ ان کی جماعت کے لیے انتہائی سخت شکست ہے تاہم انھوں نے فوری طور پر عہدہ چھوڑنے کا امکان مسترد کیا اور کہا کہ وہ اپنی حکومت کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔
پس منظر: AfD کیا ہے؟
آلٹرنیٹو فار جرمنی (Alternative für Deutschland) 2013 میں قائم ہونے والی سیاسی جماعت ہے۔ ابتدا میں اس کی سیاست کا مرکزی محور یورو اور یورپی یونین کی مالیاتی پالیسیوں کی مخالفت تھا۔
بعد ازاں یہ تنظیم قوم پرست، امیگریشن مخالف اور انتہائی دائیں بازو کی سیاست کی طرف منتقل ہوگئی۔ 2015 کے مہاجرین کے بحران کے بعد جرمنی میں اس تنظیم کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ پارٹی نے جرمنی میں مہاجرین، مسلمانوں اور امیگریشن سے متعلق سخت گیر مؤقف اپنایا۔