آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات آخری مرحلے میں داخل
ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے عارضی راستے کے تعین پر عمان کے ساتھ مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری گزرگاہ کے تعین سے متعلق بات چیت حتمی مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کو آئندہ چند روز میں عالمی میری ٹائم آرگنائزیشن کے پاس بھی رجسٹر کرائے جانے کا امکان ہے۔
انھوں نے آبنائے ہرمز میں موجودہ کشیدہ صورتحال کی وجہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت اور ناکہ بندی کو قرار دیا۔
اسماعیل بقائی کا مزید کہنا تھا کہ جب تک موجودہ صورتحال برقرار رہتی ہے بحری جہاز اس راستے سے مکمل اعتماد اور تحفظ کے احساس کے ساتھ سفر نہیں کرسکیں گے۔
ایرانی ترجمان کے بقول محفوظ عارضی راستے کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے ایک واضح اور نسبتاً محفوظ بحری گزرگاہ فراہم کرنا ہے۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور توانائی کی مصنوعات اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے حملے کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کردیا تھا جس کے بعد سے وہاں سے روزانہ گزرنے والے جہازوں کی تعداد 100 سے گھٹ کر صرف 5 رہ گئی ہے اور پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راستے پر مفاہمت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں امریکی، اسرائیلی اور ایرانی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو شدید خدشات لاحق ہیں۔