ایف بی آر افسران کو ہیڈکوارٹر الاؤنس، سپریم کورٹ نے اپیلیں خارج کردیں
(فوٹو: فائل)
ایف بی آر افسران کو ہیڈکوارٹر الاؤنس دینے کے معاملے پر سپریم کورٹ نے ایف بی آر کی اپیلیں خارج کردیں۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں بینچ نے کیس کی سماعت کی، جہاں عدالت نے سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ملازمین کے حق میں فیصلہ دیا۔
دوران سماعت ایف بی آر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری ملازمین کو ایگزیکٹو الاؤنس دیا جاتا ہے، جبکہ ایف بی آر ملازمین کو ایگزیکٹو الاؤنس کے بجائے ہیڈکوارٹر الاؤنس دیا گیا۔ وکیل نے کہا کہ ٹائم سکیل والے ملازمین کو یہ الاؤنس نہیں دیا جاسکتا۔
چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کیا الاؤنس کی منظوری وزیراعظم نے دی تھی؟ جسٹس گل حسن اورنگزیب نے ہدایت کی کہ الاؤنس سے متعلق سمری فوری منگوائی جائے تاکہ اصل صورتحال واضح ہوسکے۔ عدالتی حکم پر دوران سماعت ایف بی آر ہیڈکوارٹر الاؤنس کی سمری پیش کردی گئی۔
ایف بی آر کے وکیل نے کہا کہ ہیڈکوارٹر الاؤنس گریڈ 17 کے افسران کے لیے ہے اور موجودہ درخواست گزار گریڈ 17 کے ملازمین نہیں ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سمری میں ایسی کوئی بات نہیں لکھی، اگر ایف بی آر ٹائم سکیل ملازمین کو الگ کرنا چاہتا ہے تو دوبارہ سمری بھجوا دے۔
ایف بی آر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ کیس سروس ٹریبونل کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اور عدالت سے فنانس ڈویژن کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا کی، تاہم سپریم کورٹ نے سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ایف بی آر کی اپیلیں خارج کردیں۔
واضح رہے کہ ایف بی آر کے 40 سے زائد ملازمین نے ٹائم اسکیل کی بنیاد پر ہیڈکوارٹر الاؤنس کے حصول کے لیے درخواستیں دائر کی تھیں۔ سروس ٹریبونل نے ملازمین کے حق میں فیصلہ دیا تھا، جسے سپریم کورٹ نے برقرار رکھتے ہوئے ایف بی آر کی اپیلیں مسترد کردیں۔