امارات اور مصر نے 2023 کے حماس حملے سے نیتن یاہو کو پیشگی آگاہ کیا تھا؛ اسرائیلی اخبار
حماس حملے کی پیشگی اطلاع امارات اور مصر نے نیتن یاہو کو دیدی تھی، اسرائیلی اخبار
اسرائیلی اخبار ہاآرتس کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے سے تقریباً ڈیڑھ ہفتہ قبل وزیراعظم نیتن یاہو کو آگاہ کردیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کو براہِ راست فون کرکے غزہ میں حماس کے اس وقت کے سربراہ یحییٰ السنوار کی جانب سے ایک بڑے حملے کی تیاری سے خبردار کیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 45 منٹ تک جاری رہنے والی اس گفتگو میں اماراتی صدر محمد بن زاید نے اسرائیلی وزیراعظم سے اس خطرے کو سنجیدگی سے لینے کی درخواست بھی کی تھی۔
اسرائیلی اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اور اماراتی صدر نے خدشہ ظاہر کیا کہ حماس کا حملہ نہ صرف بڑے پیمانے پر خونریزی کا باعث بن سکتا ہے بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے ساتھ اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان ابراہیم معاہدوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اماراتی صدر نے کیا بتایا تھا؟
اسرائیلی اخبار کی رپورٹ میں اماراتی اور اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ محمد بن زاید نے نیتن یاہو کو بتایا کہ غزہ میں کچھ پھٹنے والا ہے اور یحییٰ السنوار کسی بڑے آپریشن کی تیاری کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اماراتی صدر نے اس ممکنہ حملے کو عرب خطے کے لیے بھی خطرناک قرار دیا اور کہا کہ اگر ایسا حملہ ہوا تو اس کے اثرات اسرائیل اور حماس تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ متاثر ہوسکتا ہے۔
گفتگو کے دوران محمد بن زاید کے ایک فلسطینی مشیر بھی موجود تھے۔ مشیر نے اسرائیلی اخبار ہاآرتس کو بتایا کہ انھیں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے نسبتاً پرسکون ردعمل پر حیرت ہوئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے اماراتی صدر سے کہا کہ حماس ممکنہ طور پر صرف مغربی کنارے میں کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے اور اسرائیل کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
نیتن یاہو نے سیکیورٹی حکام کو کیوں نہیں بتایا؟
اسرائیلی اخبار ہاآرتس کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے اماراتی صدر محمد بن زاید کی اس اہم خبر اور وارننگ کے بارے میں اپنے اعلیٰ ترین سیکیورٹی حکام کو آگاہ نہیں کیا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے انٹیلی جنس ادارے موساد، شن بیت اور اسرائیلی فوج کے سربراہ سمیت دفاعی اداروں کے اعلیٰ حکام کو اس براہِ راست رابطے کے بارے میں اطلاع نہیں دی گئی۔
اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ اسرائیلی قیادت نے ممکنہ بڑے حملے سے متعلق ایک غیر معمولی سفارتی وارننگ کو سیکیورٹی اداروں تک کیوں نہیں پہنچایا۔
یحییٰ السنوار کے پیغامات نے بھی خطرے کی نشاندہی کی تھی
اسرائیلی اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 2023 کے آغاز میں اسرائیلی سیکیورٹی ادارے شن بیت اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لیے خفیہ براہِ راست رابطہ قائم ہوا تھا۔
دونوں فریق ایک اہم قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم اسرائیلی جانب سے اس معاہدے کو حتمی منظوری کے لیے متعلقہ وزارتی کمیٹی کے سامنے پیش کرنے میں تاخیر ہوتی رہی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ نیتن یاہو نے بارہا کمیٹی کا اجلاس مؤخر کیا۔ شن بیت کے ذرائع کے مطابق نیتن یاہو کو خدشہ تھا کہ مذاکرات کی تفصیلات میڈیا میں افشا ہوسکتی ہیں، یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا کہ حکومت میں شامل سخت گیر اتحادیوں کے ردعمل ہوگا۔
اسی دوران یحییٰ السنوار نے ثالث کے ذریعے خبردار کیا کہ وہ ’’زلزال‘‘ یعنی زلزلہ برپا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بعد میں حماس کمانڈر نے اپنے منصوبے کو ’’سب سے بڑا سرپرائز‘‘ اور ’’خوفناک آپریشن‘‘ قرار دیا تھا۔
شن بیت نے بھی نیتن یاہو کو خبردار کیا
اسرائیلی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یحییٰ السنوار کا پیغام 15 ستمبر 2023 کو شن بیت تک پہنچا جس کے بعد اس وقت کے شن بیت سربراہ رونن بار نے نیتن یاہو کو اس بارے میں بریف کیا۔
دو روز بعد اعلیٰ دفاعی حکام کا اجلاس ہوا جس میں بار نے مبینہ طور پر خبردار کیا کہ اسرائیل تصادم کے راستے پر ہے۔
انھوں نے یہ بھی تجویز دی کہ یہودی مذہبی تہواروں سے قبل غزہ اور مغربی کنارے میں یا تو ایک بڑی فوجی کارروائی کی جائے یا دفاعی اقدامات مزید سخت کیے جائیں، تاہم اجلاس میں کوئی فیصلہ نہ ہوسکا۔
مصر نے بھی مبینہ طور پر وارننگ دی
اسرائیلی اخبار ہاآرتس کے مطابق بعد میں مصر کے انٹیلی جنس چیف عباس کامل کو بھی حماس کی ممکنہ کارروائی سے متعلق معلومات ملیں اور انھوں نے نیتن یاہو سے رابطہ کرکے ایک غیر معمولی اور خوفناک آپریشن کے امکان سے خبردار کیا۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے جواب دیا کہ اسرائیل غزہ کی صورتحال پر قابو رکھتا ہے اور اس وقت اس کی توجہ مغربی کنارے اور وہاں فوج کی تعیناتی پر زیادہ ہے۔
رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ یکم اکتوبر کو ہونے والے ایک سیکیورٹی اجلاس میں نیتن یاہو نے نہ تو اماراتی صدر محمد بن زاید کی اور نہ ہی مصری انٹیلی جنس کی وارننگ کا زکر کیا۔
7 اکتوبر کو ’’زلزال‘‘ آگیا
رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو صبح 6 بج کر 29 منٹ پر حماس نے اسرائیل پر اچانک بڑا حملہ شروع کردیا۔
حماس کے جنگجو غزہ کی سرحد عبور کرکے اسرائیلی علاقوں میں داخل ہوئے جہاں حملوں میں بڑی تعداد میں افراد ہلاک ہوئے اور تقریباً 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے جایا گیا۔
اس حملے کے بعد سے اسرائیل اور حماس کے درمیان تاحال جاری طویل جنگ کا آغاز ہوا جس کے اثرات لبنان، یمن، شام، ایران اور خطے کے دیگر حصوں تک پھیل گئے ہیں۔
اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر کی سخت تردید
نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں اسرائیلی اخبار ہاآرتس کی رپورٹ کو صاف جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیرِاعظم نیتن یاہو نے مذکورہ عرصے کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر سے بات نہیں کی اور نہ انھیں کوئی وارننگ موصول نہیں ہوئی۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید نے اسرائیلی اخبار ہاآرتس کی جانب سے رپورٹ پر تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا جواب نہیں دیا گیا۔
اسرائیل میں نئی بحث
رپورٹ سامنے آنے کے بعد اسرائیل میں ایک بار پھر 7 اکتوبر کے حملے سے قبل ملنے والی مبینہ انٹیلی جنس وارننگز اور حکومتی ردعمل پر بحث شروع ہوگئی۔
سابق اسرائیلی وزیرِاعظم نفتالی بینیٹ نے نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امارات اور مصر کی جانب سے وارننگز موصول ہونے کے باوجود نیتن یاہو نے اسرائیل کو آنکھیں بند کرکے خوفناک تباہی کی طرف دھکیل دیا۔
سابق اسرائیلی وزیرِاعظم نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ نیتن یاہو طویل عرصے تک اس تصور میں مبتلا رہے کہ حماس اسرائیل کے لیے ایک مفید اثاثہ ہے اور واضح انتباہات کے باوجود انہوں نے مناسب کارروائی نہیں کی۔