ایرانی آئل ٹینکرز پر امریکی حملوں کا بعد ایران کی جوابی کارروائیاں
ایران نے امریکی فورسز کی جانب سے 5 ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کے دعوے کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے جس سے خطے میں جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کرگئی۔
روسی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی میزائلوں سے امریکی بحریہ کے 2 ڈسٹرائرز کو نشانہ بنایا گیا جبکہ اردن میں امریکی ایف 35 اور ایف 15 طیاروں کے ہینگرز بھی حملوں کی زد میں آئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے امریکا کے آئل ٹینکرز پر حملے بعد اردن کے الازرق میں واقع امریکی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکا سے انتقام لیتے ہوئے دشمن کو غیر معمولی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ روسی میڈیا کے مطابق اردن میں امریکی دفاعی نظام بھی ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے فعال ہوگیا۔
دوسری جانب اردنی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے مجموعی طور پر 20 میزائل داغے گئے جن میں سے 18 کو راستے میں روک لیا گیا جبکہ 2 میزائل آبادی سے باہر جا کر گرے۔
اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فورسز نے ایران کے 5 خام تیل بردار بحری جہاز تباہ کیے ہیں۔
سینٹکام کے مطابق یہ کارروائی پاسداران انقلاب کی جانب سے دو روز کے دوران ایک امریکی جنگی بحری جہاز کو دو مرتبہ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کے بعد کی گئی۔
امریکی کمانڈ کا کہنا تھا کہ امریکی جنگی بحری جہاز نے ایرانی حملوں کو ناکام بنایا اور کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔
ادھر ایرانی بحریہ نے کویت اور بحرین کی بندرگاہوں پر موجود آئل ٹینکرز کے عملے کو خبردار کیا ہے کہ جہاں امریکی اہلکار موجود ہیں وہاں سے عملہ انخلا کرلے۔
تازہ جوابی حملوں اور دھمکیوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور خطے میں کسی بڑے تصادم کا خطرہ بھی شدت اختیار کرگیا ہے۔