لاہور ہائیکورٹ نے نابالغ بچے کی حوالگی سے متعلق اہم فیصلہ سنا دیا

ایک سالہ بچے کی حوالگی سے متعلق والدہ سے 7 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے لینے کا حکم کالعدم قرار

لاہور ہائیکورٹ نے نابالغ بچے کی حوالگی سے متعلق اہم فیصلہ سنا دیا۔

ایک سالہ بچے کی حوالگی سے متعلق والدہ سے 7 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے لینے کا حکم کالعدم قرار دیا گیا جب کہ بچے کو عدالت کی حدود سے باہر لے جانے پر پابندی بھی ختم کردی گئی۔

لاہور ہائیکورٹ نے ماں کی درخواست منظور کرتے ہوئے ماتحت عدالت کی دونوں شرائط ختم کردیں، جسٹس اسد علی باجوہ نے مسز مصباح بی بی کی درخواست منظور کرتے ہوئے 10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

عدالت  نے کہا ہ بچے کی فوری تحویل کے معاملے میں عدالت کا اختیار محدود ہوتا ہے، بچے کی مستقل یا طویل مدتی تحویل کا فیصلہ گارڈین کورٹ کرے گی، ایک سالہ بچے کی تحویل حقیقی والدہ کو دی گئی، ماں پر ضمانت کے طور پر 7 لاکھ روپے عائد کرنا غیر قانونی ہے، بچے کو عدالت کی حدود سے باہر لے جانے پر ماں کو روکنا بھی قانونی اختیار سے تجاوز ہے۔

وکیل مسز مصباح بی بی  نے کہا کہ 7 لاکھ روپے کی ضمانت اور بچے کو باہر لے جانے کی پابندی ختم کی جائے،عدالت  نے کہا کہ والدہ کے مطابق وہ حافظ آباد میں اپنے والدین کے ساتھ رہائش پذیر ہیں، پابندی بلاجواز ہے۔

تحریری فیصلے کے مطابق بچے کے والد کے مطابق دونوں شرائط ٹھیک ہیں اور شرائط کو قانونی اور جائز قرار دیا، مستقل یا عبوری تحویل، سرپرستی اور طویل مدتی پابندیوں کا فیصلہ گارڈین کورٹ کرے گی۔

Load Next Story