الجزائر نے امارات سے سفارتی تعلقات توڑ دیے؛سفیر کو ملک چھوڑنے کیلیے48 گھنٹے کی مہلت
الجزائر نے متحدہ عرب امارات کو ملک چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹے دیدیئے (اے آئی فوٹو)
الجزائر نے متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوطرفہ تعلقات بچانے کی تمام کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعلقات گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل کشیدہ چلے آرہے تھے۔
الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون نے گزشتہ برس اشارہ دیا تھا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات مجموعی طور پر اچھے ہیں تاہم ایک ملک کے ساتھ تعلقات میں شدید مسائل موجود ہیں۔
انھوں نے سعودی عرب، کویت، عمان اور قطر کے ساتھ تعلقات کو برادرانہ قرار دیتے ہوئے ایک خلیجی ملک پر الجزائر کے داخلی معاملات میں مداخلت اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کیا تھا۔
اس بیان میں الجزائر کے صدر نے کسی خلیجی ملک کا نام تو نہیں لیا تھا لیکن اُس وقت بھی ان کا اشارہ بڑے پیمانے پر متحدہ عرب امارات کی جانب سمجھا گیا تھا۔
الجزائری میڈیا میں بھی متحدہ عرب امارات پر خطے میں اختلافات کو ہوا دینے اور علاقائی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی فروری میں مزید نمایاں ہوئی جب الجزائر نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ 2013 میں طے پانے والے فضائی خدمات کے معاہدے کو ختم کرنے کا عمل شروع کیا۔
خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ معاہدہ 13 مئی 2013 کو ابوظہبی میں طے پایا تھا اور دسمبر 2014 میں الجزائر نے اسے صدارتی حکم نامے کے ذریعے نافذ کیا تھا۔
تاہم آج جب الجزائر نے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا تو ان میں سے کسی بھی ایک واقعے یا تنازع کو واضح طور پر بنیادی وجہ قرار نہیں دیا۔
رائٹرز کے بھی مطابق الجزائر نے متحدہ عرب امارات کے ’بعض اقدامات‘ کو اشتعال انگیز یا دشمنانہ قرار دیتے ہوئے سفارتی تعلق ختم کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان اقدامات کی مکمل تفصیل فوری طور پر سامنے نہیں لائی گئیں۔
ادھر الجزائر کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ وزارت خارجہ نے اس فیصلے سے متحدہ عرب امارات کے سفیر کو آگاہ کردیا اور انھیں ملک چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹوں کا وقت دیا گیا ہے۔
الجزائر کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات برقرار رکھنے کے لیے تمام ممکنہ ذرائع اور کوششیں ناکام ہوگئیں۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ سفارت کاری میں عقلی رابطے اور وضاحت کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔
اختلافات کی ممکنہ وجوہات
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات صرف دوطرفہ معاملات تک محدود نہیں رہے بلکہ خطے کے مختلف سیاسی معاملات پر بھی دونوں کے مؤقف میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔
الجزائر ہمیشہ سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت کرتا آیا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہیں۔
مغربی صحارا کے معاملے پر بھی دونوں ممالک مختلف سمتوں میں کھڑے ہیں۔ متحدہ عرب امارات مراکش کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے اور الجزائر آزادی کے حامی پولیساریو فرنٹ کا حامی ہے۔
ساحل کے خطے میں بھی دونوں ممالک کے جغرافیائی و سیاسی مفادات میں اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔
51 سالہ سفارتی تعلق ٹوٹ گیا
الجزائر اور متحدہ عرب امارات کے سفارتی تعلقات کے قیام کو 2025 میں 51 برس مکمل ہوئے تھے۔ الجزائر نے 1971 میں متحدہ عرب امارات کے قیام کے بعد اسے تسلیم کرنے والے ابتدائی ممالک میں شامل ہوکر اقوام متحدہ میں اس کی رکنیت کی حمایت کی تھی۔