پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی حمایت میں اضافہ، عوام کی واضح رائے سامنے آگئی

ملک گیر سروے میں بڑی تعداد نے بہتر گورننس اور مسائل کے حل کیلئے نئے انتظامی یونٹس کی حمایت کردی

پاکستان میں بہتر طرزِ حکمرانی کیلئے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے بحث تیز ہوگئی ہے جبکہ عوام کی بڑی تعداد نے اس اقدام کی کھل کر حمایت کردی ہے۔

سنو ایف ایم کے ایک ملک گیر سروے کے مطابق 75.52 فیصد پاکستانیوں نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کی، جبکہ 72.48 فیصد افراد نے اسے مسائل کے حل کا بنیادی ذریعہ قرار دیا۔

سروے میں مجموعی طور پر 4 ہزار 18 افراد نے شرکت کی، جن میں پنجاب سے 40.49 فیصد، سندھ سے 35.52 فیصد، خیبرپختونخوا سے 14.09 فیصد اور بلوچستان سے 2 فیصد افراد شامل تھے۔

نئے صوبوں کی تعداد کے تعین کے حوالے سے 40 فیصد سے زائد شرکاء نے رائے دی کہ اس کا فیصلہ ماہرین کی مشاورت سے کیا جانا چاہیے۔

اعداد و شمار کے مطابق 26.40 فیصد شرکاء نے 24 نئے صوبوں، 21.95 فیصد نے 12 صوبوں جبکہ 11.45 فیصد نے 6 نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کی، جس سے زیادہ صوبوں کے قیام کا رجحان نمایاں نظر آیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سروے نتائج واضح کرتے ہیں کہ عوام کی بڑی تعداد نئے صوبوں کو انتظامی بہتری، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی مسائل کے حل کیلئے ضروری سمجھتی ہے۔

شہریوں کے مطابق جنوبی خیبرپختونخوا کی سرائیکی آبادی کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں تاکہ انتظامی امور بہتر ہوسکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں صحت اور تعلیم کی مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث لوگوں کو ملتان، پشاور اور اسلام آباد کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

شہریوں نے مزید کہا کہ اگر ڈیرہ اسماعیل خان کو الگ صوبہ بنایا جائے تو یہاں فنڈز کی فراہمی بہتر ہوگی، ہسپتالوں کی حالت میں بہتری آئے گی اور سیکیورٹی مسائل بھی حل ہوسکیں گے۔

ان کے مطابق صوبوں کی تقسیم لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر ہونی چاہیے تاکہ عوام کو سرکاری اداروں تک آسان رسائی حاصل ہوسکے۔

متعلقہ

Load Next Story