پشاور: شوہر کو باندھ کر اس کی 2 بیویوں کےساتھ گن پوائنٹ پر گینگ ریپ کرنے والے 4 ملزمان ہلاک

زیرحراست ملزمان کو نشاندہی کیلئے لے جارہے تھے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی

پشاور میں مبینہ اجتماعی زیادتی کرنے والے 4 ملزمان نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔

رپورٹ کے مطابق پشاور پولیس نے کہا کہ زیرحراست ملزمان کو نشاندہی کیلئے لے جارہے تھے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی، پولیس نے بتایا کہ فائرنگ سے مبینہ اجتماعی زیادتی کرنے والے 4 ملزمان ہلاک ہوگئے۔

پشاور کے رنگ روڈ پر مسلح افراد نے گھر میں گھس کر خواتین کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ واقعہ رنگ روڈ، رحمان بابا تھانے کی حدود میں پیش آیا۔ مبینہ زیادتی کے بعد ملزمان خواتین کے موبائل فونز بھی ساتھ لے گئے تھے۔

ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان کے مطابق خواتین سے زیادتی کے کیس میں چار ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ افسوسناک واقعہ بچی کی موجودگی میں پیش آیا۔ کیس میں چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق واقعہ گینگ ریپ کا ہے۔ دونوں خواتین کے شوہروں کو باندھ کر مبینہ زیادتی کی گئی، ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق سات سالہ بچی کو بھی ٹچ کیا گیا۔ خواتین پیدل چل کر تھانے آئیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ 6 ستمبر کو تھانہ رحمان بابا کی حدود میں اس وقت پیش آیا جب چار مسلح افراد رات کے دو بجے دیوار پھلانگ کر کرائے دار کے مکان میں داخل ہوئے۔ ان میں مالک مکان بھی شامل تھا۔ ان کا خیال تھا کہ کرائے دار اس ظلم پر خاموشی اختیار کر جائے گا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گھر میں کرائے دار اپنی دو بیویوں، ایک بیٹے اور ایک بیٹی کے ساتھ رہتا تھا۔ دونوں خواتین کی عمریں بالترتیب 22 اور 27 سال بتائی گئی ہیں۔

ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان اور ایس ایس پی انویسٹیگیشن ڈاکٹر محمد سمیع ملک نے پریس کانفرنس میں واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ چاروں ملزمان ا۔۔سلحے سے لیس تھے اور انہوں نے اہل خانہ کو گن پو۔۔ائنٹ پر یرغمال بنایا۔ پہلے کرائے دار کو ایک کمرے میں بند کیا گیا اور پھر ان کے بیٹے کو ان کے ساتھ ہی وہاں باندھ دیا گیا۔ اس کے بعد ملزمان نے دونوں خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ایک خاتون کے ساتھ تین افراد جبکہ چھوٹی بیوی کے ساتھ ایک شخص نے زیادتی کی۔

پولیس حکام کے مطابق واقعے کے دوران خواتین نے ملزمان سے رحم کی اپیل کی۔ 'وہ گڑگڑا رہی تھیں کہ ہمیں معاف کر دیں یہ ظلم نہ کریں لیکن ملزمان کو کوئی ترس نہ آیا۔

پولیس کے مطابق ملزمان کو اس کے بعد بھی کوئی ترس نہ آیا اور بچی کی قیمض اوپر کی گئی اور اسے ہراساں کیا جاتا رہا تاہم کچھ دیر بعد اسے اس کے والد کے ساتھ باندھ دیا گیا۔ ستم یہ کہ ملزمان اس گھر سے موبائل اور دیگر ساز و سامان بھی لوٹ کر فرار ہوئے۔

واقعے کے بعد متاثرہ خاندان نے اسی رات پولیس سے رابطہ کیا۔ متاثرہ خاندان پیدل تھانہ رحمان بابا پہنچا اور تقریباً صبح چار بجے وہاں پولیس کے سامنے واقعے کی تفصیل بتائی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اطلاع ملتے ہی مقدمہ درج کیا گیا اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چار خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔

ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان نے پریس کانفرنس میں اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے بھی یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کا تصور کرنا مشکل ہے۔

پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران چاروں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا اور ان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا جبکہ لوٹے گئے موبائل فون اور دیگر اشیا بھی برآمد کر لی گئی ہیں۔

پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران گرفتار افراد نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔ ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق ملزمان اور متاثرہ خاندان کے درمیان مکان مالک اور کرایہ دار کا تعلق تھا۔ پولیس کے بقول ملزمان نے شاید یہ سمجھا کہ مالک ہونے اور خاندان کو خوفزدہ کرنے کی وجہ سے متاثرین پولیس سے رابطہ نہیں کریں گے لیکن متاثرہ خاندان نے واقعے کے چند ہی گھنٹوں بعد پولیس سے رابطہ کیا جس کے بعد کارروائی شروع کی گئی۔

ایس ایس پی انویسٹیگیشن ڈاکٹر محمد سمیع ملک کے مطابق متاثرہ خواتین سے تفتیش کے دوران خصوصی احتیاط برتی گئی۔

ان کے مطابق خواتین پولیس افسران نے متاثرہ خواتین کے بیانات اور تفتیشی کارروائی میں حصہ لیا جبکہ کسی مرد افسر کو ان کے قریب نہیں جانے دیا گیا۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خواتین کے لیے ماہر نفسیات کا سیشن بھی کروایا گیا تاکہ واقعے کے بعد انہیں درپیش ذہنی دباؤ اور صدمے سے نمٹنے میں مدد دی جا سکے۔

پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا چکے ہیں ہیں اور واقعے کی فرانزک تحقیقات بھی جاری ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی مدد بھی لی جا رہی ہے تاکہ جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد کا سائنسی تجزیہ کیا جا سکے۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خواتین کے بیانات عدالت کے سامنے بھی ریکارڈ ہو چکے ہیں۔

 

Load Next Story