ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ گورننس ناکامی کی اعلیٰ ترین مثال ہے، شرجیل میمن
سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ صوبے میں لوڈشیڈنگ کا انتہائی سنگین مسئلہ ہے اور یہ پاکستان میں گورننس ناکامی کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے رکن سجاد سومرو کی جانب سے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا گیا جس میں کے الیکٹرک کی جانب سے لیاری میں طویل لوڈشیڈنگ کا مسئلہ اٹھایاگیا تھا۔
اسپیکر نے کہا کہ یہ صرف کراچی کا مسئلہ نہیں بلکہ سندھ کے تمام اضلاع اس سے متاثر ہیں اور اس پر وفاقی حکومت سے بات کی جانی چاہیے۔
صوبائی وزیرشرجیل انعام میمن نے لوڈشیڈنگ کو سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وزارت پاور کی نااہلی اور بدانتظامی کا نتیجہ ہے، حیسکو، سیپکو اور کے الیکٹرک عوام کو بنیادی سہولت دینے میں ناکام ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 50 ڈگری کی گرمی میں 18 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ قابل قبول نہیں۔ اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے اور تمام متعلقہ اداروں کے سربراہان کو پارلیمانی کمیٹی میں طلب کرکے جوابدہ بنایا جائے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ پانی، گیس اور موٹرویز کے معاملے میں بھی سندھ کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے، اس موقع پراسپیکر نے 23 ستمبر کو تمام پاور کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز کو کمیٹی اجلاس میں طلب کرنے کی ہدایت کی۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کے-الیکٹرک کو نجی شعبے میں دے دیا گیا، لیکن آج بھی کراچی میں لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ اس مسئلے کو بارہا اسمبلی میں اٹھایا جا چکا ہے اور اسمبلی میں موجود تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ کے-الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو عوام کو مطلوبہ سروس فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بجلی فراہم کرنے والے ادارے منافع بھی کما رہے ہیں تو حکومت اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے مؤثر میکنزم کیوں نہیں بناتی؟ صرف میکنزم بنانے یا بجلی کے بلوں کی وصولی کی بات کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، اصل ضرورت نچلی سطح تک ایک مؤثر نظام قائم کرنے کی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ کون بجلی کا بل ادا کر رہا ہے اور کون نہیں کر رہا۔ اگر کوئی صارف بل ادا نہیں کرتا تو اس کے خلاف کارروائی کا مؤثر نظام ہونا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ جو لوگ باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں، انہیں بجلی کی بنیادی سہولت ضرور فراہم کی جائے۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ کیسے قابلِ قبول ہو سکتا ہے کہ عوام کو شدید گرمی میں اس طرح عذاب میں مبتلا رکھا جائے؟ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اس مسئلے کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی بھرپور انداز میں اٹھایا جانا چاہیے جبکہ پیپلزپارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اس معاملے پر آواز بلند کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف بجلی تک محدود نہیں، پانی اور گیس کے معاملے میں بھی یہی مشکلات درپیش ہیں۔ کراچی کے لیے پینے کے پانی کا مسئلہ بھی انتہائی اہم ہے، شہر کو فراہم کیے جانے والے پانی کا بنیادی ذریعہ وہی ہے اور کراچی کے لیے کوئی الگ اور متبادل ذریعہ موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے بعض علاقوں میں پانی کی فراہمی پر سبسڈی دی جاتی ہے، جبکہ سندھ اور بالخصوص کراچی میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ہے، یہ صرف بجلی کا مسئلہ نہیں بلکہ پانی، گیس، بجلی اور موٹرویز سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی سے متعلق ایک وسیع تر مسئلہ ہے۔ اس معاملے پر ہم سب کو متفق ہونا چاہیے اور کسی اختلافِ رائے کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ہمیں ان تمام مسائل کو پارلیمنٹ میں بھرپور انداز میں اٹھانا چاہیے اور ایسا مؤثر میکنزم بنانا چاہیے، جس کے ذریعے متعلقہ اداروں کو جوابدہ بنایا جا سکے۔
سینئر وزیر نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے حیسکو، سیپکو اور کے-الیکٹرک کے نمائندوں کو طلب کیا، لیکن اس کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہوا، اگر تمام سیاسی جماعتیں اس معاملے پر متفق ہیں تو اپنے آئینی و قانونی اختیار کو استعمال کیا جائے۔ اگر حیسکو، سیپکو اور کے-الیکٹرک پارلیمانی کمیٹی کو مطمئن نہیں کرتے تو انہیں دوبارہ طلب کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح گیس کے متعلقہ اداروں، پانی کے ذمہ دار اداروں اور متعلقہ وزارتوں کے نمائندوں کو بھی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے بلایا جائے اور اگر یہ ادارے پارلیمانی کمیٹی کے سامنے جوابدہی اور قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہے۔