پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، جلوس و اجتماعات پر پابندی عائد

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ممکنہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری حفاظتی اقدامات میں معاونت کی درخواست کی

فوٹو: فائل

حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کردیا ہے، جس کے تحت عوامی مقاماتی یا شاہراہوں پر اجتماعات، جلوس یا دھرنوں پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔

محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ کے تحت عوامی مقامات، شاہراہوں یا کھلی جگہ پر 5 یا زائد افراد کے اجتماع، جلوس یا اکٹھے ہونے پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش پر بھی مکمل پابندی ہوگی، غیر قانونی اجتماعات میں لوگوں کو شرکت کے لیے اکسانے یا ترغیب دینے پر بھی پابندی عائد ہوگی۔

مزید بتایا گای کہ پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، نماز جنازہ، تدفین، مساجد و دیگر عبادت گاہوں پر نہیں ہوگا، اسی طرح عدالتیں، حکومتی ادارے اور باضابطہ اجازت سے ہونے والی تقریبات پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق پابندی کا اطلاق ڈیوٹی پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلیجنس ایجنسیوں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر نہیں ہوگا۔

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ 13 سے 17 ستمبر تک کے لیے کیا گیا ہے، پنجاب بھر میں عوامی امن، سکون اور جان و مال کو لاحق سنگین خطرات کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کیا گیا ہے۔

صوبائی حکومت نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی جانب سے فوری نوعیت کے خطرات کی اطلاعات موصول ہوئیں، انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق دہشت گرد تنظیمیں عوامی اجتماعات کو ٹارگٹ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

محکمہ داخلہ پنجاب نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجتماعات، ریلیوں، جلسوں، دھرنوں، جلوسوں اور مظاہروں میں لوگوں کی بڑی تعداد کا ممکنہ دہشت گردوں کے حملوں کا آسان ہدف بننے کا اندیشہ ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ممکنہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری حفاظتی اقدامات میں معاونت کی درخواست کی۔

مزید بتایا گیا کہ سیکریٹری داخلہ نے ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144 (6) کے تحت عوامی اجتماعات پر فوری پابندی عائد کر دی ہے، کیونکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔

Load Next Story