عمران خان نااہل ہیں، وزیراعلیٰ کا انتخاب نہیں کر سکتے، شیر افضل مروت
رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ عمران خان کو نااہل قرار دیا جا چکا ہے، وہ وزیراعلیٰ کا انتخاب نہیں کر سکتے۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سہیل آفریدی نااہلی کیس کی سماعت کی، جس میں درخواست گزار شیر افضل مروت عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ سیاسی سرگرمی چل رہی ہے۔ انہوں نے عدالت کے سامنے سوال اٹھایا کہ اس کیس میں کون سا آئینی معاملہ ہے۔
شیر افضل مروت نے مؤقف اختیار کیا کہ سہیل آفریدی کو غیر آئینی طریقے سے وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ علی امین گنڈاپور کو ہٹانے کا طریقہ آرٹیکل 130 کی ذیلی شق 8 کے خلاف ہے ، انہوں نے اپنی مرضی سے استعفیٰ نہیں دیا۔ آرٹیکل 130 کی شق 8 کے مطابق پبلک آفس ہولڈر بغیر بیرونی دباؤ عہدہ چھوڑ سکتا ہے، تاہم پبلک آفس ہولڈر بیرونی دباؤ پر استعفیٰ نہیں دے سکتا۔
انہوں نے کہا کہ گورنر نے علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور بھی نہیں کیا تھا، جس کے بعد دوسری مرتبہ ہاتھ سے لکھا گیا استعفیٰ بھیجا گیا۔ آئین کے مطابق وزیراعلیٰ سے زبردستی استعفیٰ نہیں لیا جاسکتا اور سپریم کورٹ کا اس حوالے سے فیصلہ بھی موجود ہے۔
شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے بانی پی ٹی آئی سزا یافتہ اور نااہل ہوچکے ہیں۔ نااہل پارٹی سربراہ وزیراعلیٰ کا انتخاب نہیں کرسکتا، جبکہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر کہا گیا کہ علی امین گنڈاپور کو ہٹایا جائے۔ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر علی امین گنڈاپور نے استعفیٰ دیا۔ انہیں تاحال ڈی نوٹیفائی نہیں کیا گیا۔ آئینی طریقہ کار نہ اپنایا جائے تو تعیناتی غلط ہوگی۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتے اور انہیں آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نااہل کیا گیا ہے۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی نااہلی سے متعلق کیس میں فریقین اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کو نوٹس جاری کردیے اور سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔