لاہور میں کارکنوں کی گرفتاریاں، سہیل آفریدی احتجاجاً موبائل میں جا بیٹھے

لاہور پولیس کے سربراہ نے حراست میں لینے کی تردید کردی

لاہور کے علاقے لکشمی چوک میں تحریک انصاف کے کارکنان کو گرفتار کرنے پر وزیراعلیٰ کے پی برہم ہوکر پولیس موبائل میں جابیٹھے اور اترنے سے انکار کردیا، پولیس موبائل وزیراعلیٰ کو لے کر روانہ ہوگئی اور دور جاکر اتاردیا، پی ٹی آئی نے پولیس پر وزیراعلیٰ کو گرفتار کرنے کا الزام عائد کردیا، عظمیٰ بخاری نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے گرفتاری کی تردیدی کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اسٹریٹ موومنٹ کے تحت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لاہور کے علاقے لکشمی چوک پہنچے جہاں تحریک انصاف کے کارکنان کو پولیس نے گرفتار کر کے قیدی وین میں بیٹھایا ہوا تھا۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے احتجاج کیا اور قیدی وین پر چڑھ گئے جبکہ کارکنان کو رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر بے گناہ افراد کو رہا نہ کیا گیا تو اگلے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا۔

اسی کے ساتھ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی احتجاج سڑک پر بھی بیٹھے اور پھر پولیس کی گاڑی میں جاکر بیٹھے، جس کے بعد ڈرائیور نے موبائل وین بھگا دی جبکہ موقع پر موجود کارکنان نے وزیراعلیٰ کو حراست میں لینے کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور کہا کہ ہم بھی ساتھ جائیں گے۔

دوسری جانب وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اس سارے معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی کی ایک اور ڈرامے بازی سامنے آگئی، پولیس انہیں منع کررہی تھی مگر وہ خود گاڑی میں جاکر بیٹھے۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ وزیراعلیٰ کو حراست میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی گرفتار کیا گیا ہے۔

لاہور پولیس کے سربراہ کی تردید

لاہور پولیس نے وزیر اعلیٰ کے پی کے کو حراست میں نہ لینے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کو پولیس کے زیر حراست رکھنے کا تاثر حقائق کے منافی ہے، وزیراعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی خود اپنی مرضی سے پولیس وین میں چڑھے۔

لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی سکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس وین آگے بڑھائی۔ وزیراعلیٰ کے پی کے کیلئے سکیورٹی کی بھرپور انتظامات عمل میں لائے جارہے ہیں۔

صوبائی وزیر کی وضاحت

حکومت پنجاب نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کو پنجاب میں داخل ہونے پر سیکیورٹی فراہم کرکے ایک ذمہ دار حکومت ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

صوبائی وزیر و چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ حکومت پنجاب نے بارہا وزیر اعلیٰ کے پی کے کے عملہ اور کے پی کے کی حکومت سے روٹ کا پوچھا لیکن کوئی تعاون نہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی کی نازیبا اور غیر پارلیمانی گفتگو کے باوجود پنجاب پولیس نے مکمل سیکیورٹی فراہم کی، وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی وجہ سے شہری سارا دن تنگ ہوئے، مریض ایمبولینسز میں پھنسے رہے جس پر وزیر اعلیٰ کے پی کے کو عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔

خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی اپنے گارڈز کے ہمراہ پولیس کی گاڑی پر سیر و تفریح کرنے کے بعد فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے جن پر عوام نے کان نہ دھرے، حکومت پنجاب قانون کی بالا دستی پر مکمل یقین رکھتی ہے۔ 

متعلقہ

Load Next Story