ایران جنگ؛ اسرائیل، امریکا اور 7 عرب ممالک کے آرمی چیفس کی جرمنی میں خفیہ ملاقات

اسرائیل، امریکا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر، اردن اور مصر کے اعلیٰ فوجی حکام شریک ہوئے

ایران جنگ، اسرائیل امریکا اور عرب فوجی سربراہوں کی اہم ملاقات (اے آئی سے بنوائی گئی تصوراتی تصویر)

ایران کے خلاف جنگ اور خطے میں بڑھتی کشیدگی پر اسرائیل، امریکا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت 9 ممالک کے فوجی سربراہوں نے جرمنی میں اہم اجلاس کیا ہے۔

اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کے حوالے سے بتایا کہ اجلاس گزشتہ ہفتے جرمنی کے ایک پُرسکون اور نجی اسکی ریزورٹ میں ہوا جس میں اسرائیل، امریکا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر، اردن اور مصر کے اعلیٰ فوجی حکام شریک ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق یہ اجلاس امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے منعقد کیا تھا اور سینٹرل کمانڈ نے بھی جرمنی میں ہونے والی اس ملاقات کی تصدیق کی ہے۔ تاہم اجلاس کی مکمل تفصیلات منظرعام پر نہیں لائی گئیں۔

ذرائع کے مطابق یہ فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی شروع کیے جانے کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس تھا۔ اس سے قبل بھی خطے کے فوجی سربراہوں کے درمیان اس نوعیت کے اجلاس ہوتے رہے ہیں۔

اسرائیلی فوجی سربراہ کی بریفنگ

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے اجلاس میں مختلف محاذوں پر اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے بارے میں اپنے ہم منصبوں کو بریفنگ دی۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے مبینہ طور پر اجلاس میں واضح کیا کہ ایرانی حملوں کے باوجود امریکا خطے سے اپنی فوجی موجودگی ختم نہیں کرے گا۔

بریڈ کوپر نے شرکا کو آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بڑھانے سے متعلق امریکی منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت محدود کرنے کی کوششوں کے باعث یہ گزرگاہ حالیہ تنازع میں خاص اہمیت اختیار کرچکی ہے۔

سینٹرل کمانڈ نے ایکسیوس کو جاری بیان میں ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس نے جرمنی میں 8 ممالک کے اعلیٰ فوجی رہنماؤں کی ایک طے شدہ کانفرنس کی میزبانی کی، جس میں مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی تعاون بڑھانے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سعودی عرب کی مدد کے لیے اسرائیل سے رابطے

رپورٹ میں ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب، امریکی سینٹرل کمانڈ کی معاونت سے، حوثیوں کی پیش قدمی کے مقابلے میں سعودی عرب کی مدد کے ممکنہ طریقوں پر بھی بات کر رہے ہیں۔

حوثی گروپ نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے تیز کیے ہیں، جبکہ باب المندب آبنائے کی جانب اس کی پیش قدمی نے بھی سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک میں تشویش پیدا کردی ہے۔

ذرائع کے مطابق فی الحال اس بات کا امکان کم ہے کہ اسرائیل حوثیوں کے خلاف براہِ راست کوئی جارحانہ فوجی کارروائی کرے گا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے مختلف طریقوں پر غور جاری ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی اخبار اسرائیل ہیوم نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان حوثیوں کے حملوں سے متعلق رابطوں کی نگرانی کر رہی ہے۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی

جرمنی میں ہونے والی یہ ملاقات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ تک پھیل چکے ہیں۔

آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں نے عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے بھی خدشات بڑھا دیے ہیں۔

ایران کے خلاف جنگ میں امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ خطے کے عرب ممالک بھی اپنی دفاعی پوزیشن مضبوط کرنے اور اہم بحری گزرگاہوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تاحال اس رپورٹ کے بارے میں اسرائیل، امریکا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، کویت اور بحرین کی جانب سے تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

Load Next Story