وفاقی حکومت کا بجلی ٹرانسفارمز ’آن آف کرنے‘ کا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے بجلی کے ٹرانسفارمز کو آن آف کرنے کا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا
اویس لغاری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ نئے نظام کے بعد پورے فیڈر کو بند کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، جس ٹرانسفارمر پر بجلی چوری ہوگی صرف اسی کو بند کیا جاسکے گا۔
وزیر توانائی نے کہا کہ ٹرانسفارمر آن آف کرنے کا نظام دنیا بھر میں استعمال ہونے والا نیا کانسپٹ ہے، اگلے سال اپریل مئی تک نئے نظام کا ریگولیٹری فریم ورک دے دیا جائے گا۔
اویس لغاری نے کہا کہ ملک میں بجلی کی کوئی اضافی لوڈ شیڈنگ نہیں کی جارہی، نیٹ میٹرنگ سسٹم میں تبدیلی کے بعد لوگوں نے بیٹریاں لگانا شروع کردی ہیں، تین چار لاکھ افراد کا بوجھ باقی ساڑھے تین کروڑ صارفین پر منتقل ہونے سے روکا ہے۔
قبل ازیں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس محمد ادریس کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ حکام نے بتایا کہ مون سون میں 8 اضلاع میں 150 ٹرانسفارمرز فراہم کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں 132 کے وی گرڈ اسٹیشن پڈھیانہ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ بابر نواز نے کہا کہ گرڈ اسٹیشن کے لیے 2018 سے قبل فنڈز مختص ہوئے تھے، سابق وفاقی وزیر اس اسٹیشن کو اپنے علاقے میں لے گئے، جس کے باعث گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کا کام مکمل نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آفس کے خط کے جواب میں غلط بیانی کی گئی۔
انجینئر قمر اسلام راجہ نے بتایا کہ رپورٹ میں لکھا گیا کہ 80 فیصد کام مکمل ہوگیا، 80 فیصد کام مکمل ہونے کے بعد اب اس منصوبے کی شفٹنگ ممکن نہیں۔ وفاقی وزیر توانائی نے استفسار کیا کہ یہ بتایا جائے کس کے کہنے پر گرڈ کو شفٹ کیا گیا، ایک ایم این اے کے کہنے پر کیسے گرڈ کو شفٹ کیا گیا۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ڈیمانڈ نوٹس میں ملی بھگت سے لوڈ کم لکھنے سے سسٹم پر بڑا لوڈ پڑ رہا ہے۔ بجلی کا عملہ رشوت لے کر اور مرغیاں کھا کر کم لوڈ لکھوا کر سسٹم کا ستیاناس کرارہا ہے۔ ملک میں اکثر لوڈشیڈنگ والے فیڈرز کی وجہ ڈسکوز اور ان کا عملہ ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ ڈسکوز کا سسٹم اوورلوڈ ہوچکا ہے، سسٹم کو ٹھیک کرنے کے لیے ہر حلقے میں 60 کروڑ سے ایک ارب روپے تک سرمایہ کاری درکار ہے۔ انفراسٹرکچر کے مسائل حل کرنے کے لیے ڈسکوز کو جامع سرمایہ کاری کی ہدایت کی ہے۔ سسٹم پر سرمایہ کاری کے لیے 200 ارب روپے درکار ہوں گے جو صارفین سے 25 برس میں ریکور ہوں گے، اس رقم سے صارفین پر زیادہ بوجھ نہیں پڑے گا مگر سسٹم اپ گریڈ ہوجائے گا۔
وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ ہماری ڈسکوز نے آج تک سسٹم پر سرمایہ کاری نہیں کی۔ وزیراعظم کی ہدایت پر ڈسکوز کی بہتری کے لیے پلان ترتیب دیا گیا ہے۔ ہمارے پاس 14 ہزار فیڈرز ہیں، ساڑھے تین ہزار فیڈرز پر چوری کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ہے، جبکہ ڈسکوز کو لوڈشیڈنگ کی جتنی اجازت ہے اس سے کئی سو گنا لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ انفراسٹرکچر مضبوط بنانے کے لیے سرمایہ کاری کی ہدایت کی ہے۔ ہم فیڈر کے بجائے اب ٹرانسفارمر سے بجلی بند کریں گے، تاہم پورے فیڈر کے بجائے اسی ٹرانسفارمر پر لوڈشیڈنگ ہوگی۔ ہم فیڈرز پر لوڈشیڈنگ کے بجائے ٹرانسفارمر لیول پر لے کر جارہے ہیں۔ لائن مین اور ایس ڈی او کو رشوت دے کر لوڈ کم لکھوایا جاتا ہے۔
وفاقی وزیر توانائی نے تسلیم کیا کہ ساڑھے چودہ ہزار فیڈرز میں سے ساڑھے تین ہزار پر لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، یہ لوڈشیڈنگ چوری اور لائن لاسز کی وجہ سے ہورہی ہے۔ ایک سال بعد فیڈر سے بجلی بند کرنے کے بجائے ٹرانسفارمر پر لائیں گے۔ پیک آورز میں گیس کے پاور پلانٹس نہیں چلا رہے، گیس کا کارگو جو تین کروڑ ڈالر کا ملتا تھا اب ساڑھے نو کروڑ ڈالر سے بڑھ گیا ہے۔ ہم نے پیک آورز میں لوڈشیڈنگ فیول کاسٹ بچانے کے لیے کی۔
اویس لغاری نے کہا کہ کسی آئی پی پی کے ساتھ کوئی نیا معاہدہ نہیں کیا گیا، میڈیا میں اس حوالے سے غلط خبریں چلیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی رانا محمد حیات پاور اپنی ہی حکومت پر برس پڑے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی لوڈشیڈنگ ہے کہ عوام میں جانا مشکل ہوگیا، اگر جمہوری حکومت ہے تو دوبارہ عوام کے پاس کیسے جائیں گے؟ بل اتنے آرہے ہیں کہ عوام کا جینا دوبھر ہوگیا ہے، لوگ کہاں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آپ سے درخواست ہے یہ صارفین پاکستانی ہیں، ہم نے پھر ووٹ کے لیے جانا ہے۔
رانا محمد حیات نے کہا کہ ڈسکوز کیا کریں، وزیر صاحب آپ پیچھے سے بتی بند کردیتے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے ہم ملک کے لیے نہیں صرف آئی ایم ایف کے لیے کام کررہے ہیں۔ زمینداروں کا بل اتنا آرہا ہے، کیا پیداوار ہوگی، کیا ایکسپورٹ ہوں گی؟ جب کسان کو اٹھنے ہی نہیں دیا جارہا تو جی ڈی پی کیسے بڑھے گا۔
رانا محمد حیات نے کہا کہ وزیر صاحب باتیں تو بہت ہورہی ہیں، بجلی سستی نہیں ہوئی۔ اس پر اویس لغاری نے کہا کہ آپ ایک ذمہ دار فورم پر غیر ذمہ دارانہ بات کررہے ہیں، آپ یہ ثابت کریں کہ بجلی مزید مہنگی ہوئی۔
وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ ملک میں بیٹری کا انقلاب شروع ہوچکا ہے، یہ صارفین کے حق میں ہے کہ وہ رات کو اپنی بجلی استعمال کریں۔ ڈسکوز کو بیٹریز سسٹم کی تنصیب کی ہدایت کی ہے۔