غزہ میں اسرائیلی حملوں سے مخدوش عمارت گر گئی؛ 12 بچوں سمیت 21 افراد شہید

غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری میں پورا شہر کھنڈر بن چکا ہے اور رہائشی عمارتیں مخدوش حالت میں جھول رہی ہیں

اسرائیلی بمباری میں رہائشی عمارتیں نہایت مخدوش ہوچکی ہیں؛ فوٹو: فائل

غزہ سٹی کے علاقے تل الہویٰ میں اسرائیلی حملوں سے متاثرہ 6 منزلہ مخدوش رہائشی عمارت اچانک منہدم ہوگئی جس میں دو درجن سے زائد افراد ملبے تلے دب گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ کی سول ڈیفنس نے بتایا کہ عمارت بدھ کی رات اچانک منہدم ہوکر قریبی گھروں اور خیموں پر جاگری۔

اس عمارت میں ہر منزل پر چار اپارٹمنٹس تھے اور جنگ کے دوران اسرائیلی حملوں سے اسے شدید نقصان پہنچا تھا جس میں فلسطینی پناہ گزین مقیم تھے۔

غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق عمارت پہلے ہی خطرناک حالت میں تھی تاہم رہائش کے متبادل نہ ہونے کے باعث لوگ وہاں قیام پر مجبور تھے۔

عمارت گرنے کے بعد ریسکیو آپریشن شروع کردیا گیا۔ ملبہ ہٹانے اور متاثرین تک پہنچنے کے لیے بھاری مشینری اور دیگر ضروری سامان کی کمی کا سامنا ہے۔

ملبے سے چند ہی افراد کو شدید زخمی حالت میں نکالا جا سکا جب کہ متعدد لاشیں بھی برآمد کی گئیں۔ ملبے تلے دبے افراد کی آوازیں اب بھی سنائی دے رہی ہیں۔

نکالنے کے ساتھ ساتھ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش بھی جاری رکھی۔ محدود وسائل کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا رہا جبکہ عینی شاہدین کے مطابق ملبے تلے دبے افراد کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

رپورٹس کے مطابق عمارت میں بے گھر ہونے والے فلسطینی خاندان پناہ لیے ہوئے تھے۔ جنگ کے دوران بڑی تعداد میں رہائشی عمارتیں تباہ یا شدید متاثر ہونے کے باعث کئی فلسطینی خاندان خیموں کے علاوہ خطرناک اور جزوی طور پر تباہ شدہ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

اقوام متحدہ اور امدادی اداروں کے مطابق جنگ کے دوران غزہ میں بڑی تعداد میں عمارتیں اسرائیلی حملوں سے تباہ یا نقصان زدہ ہوچکی ہیں۔

مقامی سول ڈیفنس کے مطابق تقریباً 2 ہزار متاثرہ عمارتیں اب بھی منہدم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں اور بعض مقامات پر لوگ مجبوری کے تحت ان میں رہ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ غزہ میں اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی بمباری میں پورا شہر کھنڈر بن چکا ہے اور رہائشی عمارتیں مخدوش حالت میں جھول رہی ہیں جس میں رہائش پذیر لاکھوں پناہ گزین کی زندگی شدید خطرے میں ہے۔

 

Load Next Story