غزہ کے 20 ہزار سے زائد شہید بچوں کے لکھے گئے ناموں کا 100 میٹر طویل کفن نمائش کے لیے پیش
غزہ میں جاں بحق ہونے والے 20 ہزار سے زائد فلسطینی بچوں کے ہاتھ سے لکھے ناموں پر مشتمل تقریباً 100 میٹر طویل یادگاری کفن نیویارک کے اقوام متحدہ چرچ سینٹر میں نمائش کے لیے پیش کردیا گیا۔
تعداد نہیں نام کے عنوان سے پیش کیے گئے اس منصوبے کا مقصد جنگ میں شہید ہونے والے بچوں کو محض اعداد و شمار کے بجائے ان کی انفرادی شناخت اور ناموں کے ساتھ یاد کرنا ہے۔ منتظمین نے اس اقدام کے ذریعے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور مبینہ جنگی جرائم کے احتساب کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
اس منصوبے کی تحریک اٹلی میں تیار کیے گئے ایک یادگاری کفن سے ملی جہاں غزہ میں اپنے بچوں کی لاشوں کی شناخت یقینی بنانے کے لیے بعض والدین کی جانب سے بچوں کے نام جسم پر لکھنے کے المناک عمل کو یادگار کی شکل دی گئی۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ کفن پر نام لکھنے کا مقصد بچوں کو جنگ کے اعداد و شمار میں گم ہونے سے بچانا ہے۔
یہ یادگاری کفن یکم ستمبر کو فلاڈیلفیا سٹی ہال سے اپنے سفر کا آغاز کرچکا ہے جبکہ نیویارک میں 16 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اسے پیش کیا گیا۔ منصوبے کے تحت اسے آئندہ مختلف شہروں میں لے جایا جائے گا اور ایک سال تک جاری رہنے والی عالمی مہم کے دوران ہر ماہ ایک نئے شہر میں نمائش اور دعائیہ و آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران بچوں سمیت بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے حالیہ ملبے سے لاشوں کی برآمدگی پر ممکنہ جنگی جرائم کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے رسائی دینے پر زور دیا ہے۔
منتظمین کے مطابق اس کفن پر درج ہر نام ایک بچے کی زندگی، شناخت اور خاندان کی یاد کی علامت ہے، تاکہ غزہ میں شہید ہونے والے بچوں کو محض ایک عدد کے طور پر نہیں بلکہ نام اور شناخت رکھنے والے انسانوں کے طور پر یاد رکھا جائے۔