ایران جنگ؛ بینک آف انگلینڈ کو دھچکا؛ سخت فیصلے کرنے پر مجبور

بینک آف انگلینڈ کی کمیٹی کے تین ارکان نے شرح سود 3.75 فیصد سے بڑھا کر 4 فیصد کرنے کی حمایت کی

بینک آف انگلینڈ نے شرح سود 3.75 فیصد پر برقرار رکھتے ہوئے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث مہنگائی کے خطرات سے خبردار کیا ہے

برطانیہ کے مرکزی بینک نے شرح سود 3.75 فیصد پر برقرار رکھتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ طویل ہونے اور توانائی کی قیمتیں بلند رہنے کی صورت میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بینک آف انگلینڈ کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 6 کے مقابلے میں 3 ووٹوں سے شرح سود 3.75 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا جبکہ تین ارکان نے شرح سود میں 0.25 فیصد اضافے کے حق میں ووٹ دیا۔

بینک کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری طویل تنازع نے خام تیل، گیس اور دیگر توانائی مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا ہے جس کے نتیجے میں برطانیہ میں مہنگائی کے دوبارہ بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

مہنگائی 3.1 فیصد تک پہنچ گئی

بینک آف انگلینڈ کے مطابق برطانیہ میں صارفین کی قیمتوں کی افراط زر کی شرح اگست میں 3.1 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ مرکزی بینک کا ہدف 2 فیصد ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ توانائی کی بلند قیمتوں کے براہ راست اثرات مہنگائی میں پہلے ہی نظر آنا شروع ہوگئے ہیں تاہم ابھی تک اجرتوں اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اس کے دوسرے مرحلے کے اثرات محدود ہیں۔

گورنر اینڈریو بیلی نے کہا کہ اگر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور اضافہ طویل عرصے تک جاری رہا تو اس کا مہنگائی پر اثر بڑھ سکتا ہے اور ایسی صورت میں شرح سود میں اضافے کی ضرورت زیادہ ہوجائے گی۔

تین ارکان شرح سود بڑھانے کے حق میں

بینک آف انگلینڈ کی کمیٹی کے تین ارکان نے شرح سود 3.75 فیصد سے بڑھا کر 4 فیصد کرنے کی حمایت کی۔

ان ارکان کا مؤقف تھا کہ مشرق وسطیٰ میں تنازع کی شدت اور دورانیہ توانائی اور خوراک کی قیمتوں پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے جبکہ مہنگائی کے دوبارہ بڑھنے کا خطرہ موجود ہے۔

دوسری جانب چھ ارکان نے شرح سود موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کے حق میں ووٹ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک توانائی کی بلند قیمتوں کے دوسرے مرحلے کے اثرات محدود ہیں اور موجودہ معاشی حالات میں مزید شواہد کا انتظار کیا جاسکتا ہے۔

توانائی کی قیمتیں مرکزی مسئلہ

بینک آف انگلینڈ کے مطابق مشرق وسطیٰ کا طویل تنازع برطانیہ میں مہنگائی کے مستقبل کے لیے سب سے بڑی غیر یقینی صورتحال بن چکا ہے۔

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ عالمی توانائی کی قیمتوں کو مانیٹری پالیسی کے ذریعے براہ راست کنٹرول نہیں کیا جاسکتا، تاہم اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ توانائی کی قیمتوں سے پیدا ہونے والی مہنگائی مستقل شکل اختیار نہ کرے۔

بینک کے تازہ جائزے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگر توانائی کا بحران جاری رہا تو برطانیہ میں مہنگائی 2027 کے آغاز میں 4 فیصد سے کچھ اوپر پہنچ سکتی ہے۔

امریکا بھی شرح سود بڑھا چکا

بینک آف انگلینڈ کا یہ فیصلہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔

امریکی فیڈرل ریزرو نے 16 ستمبر کو شرح سود میں 0.25 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 3.75 سے 4 فیصد کی حد تک پہنچا دیا۔ یہ 2023 کے بعد امریکا میں شرح سود میں پہلا اضافہ تھا۔ امریکی مرکزی بینک نے مہنگائی کو بلند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد اسے 2 فیصد کے ہدف کی جانب واپس لانا ہے۔

جنگ طویل ہوئی تو برطانیہ میں قرض مہنگا ہوسکتا ہے

اگر مشرق وسطیٰ میں تنازع طویل ہوتا ہے اور توانائی کی قیمتیں مسلسل بلند رہتی ہیں تو برطانیہ میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں مزید اضافہ زیر غور آسکتا ہے۔

شرح سود میں اضافے کی صورت میں گھریلو قرضوں، رہن اور کاروباری فنانسنگ کی لاگت بڑھ سکتی ہے، جس سے اخراجات اور سرمایہ کاری میں کمی آسکتی ہے۔ دوسری جانب اس کا مقصد مہنگائی کے دباؤ کو محدود کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ بینک آف انگلینڈ نے 2024 میں شرح سود کم کرنا شروع کی تھی اور دسمبر 2025 میں اسے 3.75 فیصد تک لایا گیا۔ تاہم ایران اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بعد تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہونے سے عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

 

Load Next Story