امریکا اور اسرائیل کیساتھ جنگ؛’جاں فدائے ایران‘ مشق میں ایرانیوں کا سمندر اُمڈ آیا

اس مہم کے تحت ایک ہزار قومی مزاحمتی بٹالینز تشکیل دینے اور انہیں تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ بھی بتایا گیا ہے

تہران میں ’جاں فدائے ایران‘ مہم کے تحت ہونے والی بڑی مشق میں شہریوں اور رضاکاروں کی بڑی تعداد شریک (فوٹو: ایرانی میڈیا)

ایران میں امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے دوران ’جاں فدائے ایران‘ مہم کے تحت بڑے پیمانے پر مشقوں اور عوامی اجتماع کا آغاز ہوگیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران میں مرکزی مشق کا آغاز امام حسین اسکوائر سے انقلاب اسکوائر تک مقررہ راستے پر ہوا جہاں خواتین، نوجوانوں، طلبا، جنگی تجربہ رکھنے والے افراد اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے۔

جاں فدائے ایران مہم کی اس مشق کو 3 لاکھ 13 ہزار افراد پر مشتمل پروگرام کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس میں جنگ کی تیاریوں اور اس سے متعلق شہریوں کو بنیادی معلومات فراہم کی جائیں گی۔

’جاں فدائے ایران‘ مہم کو صرف ایک عوامی مظاہرے تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اس کے تحت رضاکاروں کو فوجی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تربیت دینے کا منصوبہ بھی سامنے آیا ہے۔

ایرانی حکام کے بقول مہم میں شریک رضاکاروں کو دفاع، جنگی معاونت، امدادی کارروائیوں، تلاش و بچاؤ اور دیگر شعبوں میں منظم کیا جارہا ہے۔

اس مہم کے تحت ایک ہزار قومی مزاحمتی بٹالینز تشکیل دینے اور انہیں تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ بھی بتایا گیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق جمعے کی مشق میں ڈرونز کی نمائش بھی کی گئی جبکہ شرکا کو مختلف گروپوں اور بٹالینز کی شکل میں منظم کیا گیا۔خواتین اور نوجوانوں کے لیے بھی الگ حصے رکھے گئے تھے۔

بعض شرکا نے کفن پہن کر شرکت کی جسے ایران کے دفاع کے لیے قربانی دینے کی آمادگی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔

ایران کا 3 کروڑ سے زائد رجسٹریشن کا دعویٰ

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ’جاں فدائے ایران‘ مہم کے لیے ملک بھر میں 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد رجسٹریشن کراچکے ہیں۔

بعض ایرانی ذرائع نے یہ تعداد 3 کروڑ 20 لاکھ سے بھی زیادہ بتائی ہے تاہم آزاد ذرائع ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق تہران کے پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے حالیہ مشق سے قبل بتایا تھا کہ تہران میں 6 لاکھ سے زائد افراد نے رجسٹریشن کرائی ہے جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ افراد کو فوجی تربیت دینے کی توقع ہے۔

واضح رہے کہ ’جاں فدائے ایران‘ مہم رواں سال ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد شروع ہوئی اور اسے ایرانی حکومت نے قومی مزاحمت اور دفاع کے لیے عوامی متحرک کاری کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

 

Load Next Story