ایران جنگ میں امریکی فوج کا جانی و مالی نقصان؛ ٹرمپ کیلیے مڈٹرم الیکشن ڈراؤنا خواب بن گیا

ٹرمپ انتظامیہ نے ایران جنگ میں ہونے والے امریکی فوج کے جانی و مالی نقصانات سے متعلق حقائق عوام سے چھپائے ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی فوج کو ایران جنگ میں جھونک کر بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان کروایا ہے اور ان حقائق کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش بھی کی ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس اور نیویارک ٹائمز کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ میں امریکی فوج کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے قانون سازوں کو فراہم کیے گئے نئے ترین فوجی تخمینے کے مطابق تین ستمبر تک اس تنازع کی مجموعی لاگت بڑھ کر 43.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

اس سے قبل امریکی کانگریشنل بجٹ آفس نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ یکم اگست تک جنگی اخراجات 38 ارب ڈالر تھے جس کا مطلب ہے کہ محض ایک ماہ کے دوران ہتھیاروں اور فوجی کارروائیوں کی مد میں مزید 6 ارب ڈالر سے زائد کا ضیاع ہوا ہے۔

اس بے پناہ خرچ کا بڑا حصہ مہنگے ہتھیاروں، میزائلوں کی تبدیلی اور جنگی طیاروں کی پروازوں کے دوران ایندھن کے اخراجات پر صرف ہو رہا ہے۔

امریکی ماہرینِ معیشت اور آزاد تحقیقی اداروں کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کے ان پوشیدہ اخراجات نے ملکی معیشت پر سنگین بوجھ ڈال دیا ہے، جس کے باعث نہ صرف امریکی دفاعی اسٹاک میں کمی آ رہی ہے بلکہ سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں ملک کے اندر مہنگائی کی شرح میں بھی مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اس رپورٹ پر ڈیموکریٹک رہنماؤں نے صدر ٹرمپ اور ریپبلکن انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جو حکومت ملکی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے فنڈز کی کمی کا رونا روتی تھی، وہ اس بے مقصد اور خطرناک جنگ کے لیے اربوں ڈالر آسانی سے اڑا رہی ہے، جس کا حتمی نقصان براہ راست امریکی ٹیکس دہندگان کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی ایک تہلکہ خیز رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی اصل تعداد عوامی سطح پر جاری کردہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔

رپورٹ میں پینٹاگون کے اندرونی ریکارڈ تک رسائی رکھنے والے چھ امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا گیا ہے کہ اس فوجی تنازع میں اب تک کم از کم 22 امریکی فوجی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جبکہ امریکی محکمہ دفاع کے پبلک ڈیٹا بیس میں ہلاکتوں کی تعداد صرف 18 بتائی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کی جانب سے اصل حقائق کو چھپانے پر ان کے اپنے محکمے کے بعض عہدیداروں میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ دوسری جانب امریکی حکومت اور محکمہ دفاع نے اس رپورٹ کی سختی سے تردید کی ہے۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے واشنگٹن پوسٹ کی اس رپورٹ کو سراسر جھوٹ قرار دیا ہے۔

تاہم، اخباری رپورٹ کے مطابق ان تمام ہلاکتوں کا براہ راست تعلق لڑائی سے نہیں ہے بلکہ ان میں وہ فوجی بھی شامل ہیں جو مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے دوران غیر جنگی مشنز یا دیگر حادثات کا شکار ہوئے اور پینٹاگون نے ان کے نام پبلک ڈیٹا بیس میں شامل نہیں کیے۔

امریکی سینیٹر ٹیمی ڈکورتھ سمیت کئی سیاسی رہنماؤں نے انکشافات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ پینٹاگون نے فی الحال ہلاکتوں کے ان اعداد و شمار میں واضح فرق کی کوئی باقاعدہ وضاحت پیش کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ایران جنگ میں بڑھتے اخراجات کا بوجھ ٹیکسوں کی صورت پر عوام پر پڑنے اور مسلسل فوجی جانوں کے نقصان کا خمیازہ صدر ٹرمپ کو نومبر میں ہونے والے مڈٹرم الیکشن میں  بھگتنا پڑ سکتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو یہ امریکی تاریخ کا ایک نیا باب ہوگا۔

Load Next Story