سعودی عرب؛ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب زوردار دھماکے، آگ کے شعلے بلند

رائٹرز کے سعودی حکومت سے ہنگامی فضائی الرٹس کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کا تاحال کوئی باقاعدہ جواب سامنے نہیں آیا

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے مرکزی ہوائی اڈے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب زوردار دھماکوں کے بعد آسمان پر دھوئیں کے گہرے بادل اور آگ کے شعلے دیکھے گئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں اس وقت شدید سنسنی اور خوف و ہراس پھیل گیا جب کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریبی علاقے سے خوفناک دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز اور اے ایف پی کی رپورٹس اور ویڈیو فوٹیجز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایئرپورٹ ہائی وے اور مین ٹرمینل بلڈنگ کے پسِ منظر میں سیاہ دھوئیں کا ایک بہت بڑا ستون فضا میں بلند ہو رہا ہے اور فیول ٹینکس (سرکاری تیل کمپنی آرامکو کے ڈپو) کے پیچھے سے آگ کے شعلے نکل رہے ہیں۔

اس واقعے کے بعد فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس کے مطابق ریاض ایئرپورٹ پر متعدد پروازیں تاخیر کا شکار اور منسوخ کر دی گئی ہیں۔

دھماکوں سے چند گھنٹے قبل سعودی سول ڈیفنس کی جانب سے ریاض اور اس کے قریبی شہر الخرج کے رہائشیوں کے موبائل فونز پر ہنگامی وارننگ میسجز بھیجے گئے تھے جن میں امکانی فضائی حملے کے خطرے سے آگاہ کیا گیا تھا۔

شہریوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ کھڑکیوں اور کھلی جگہوں سے دور رہیں اور گھروں کے اندر ہی قیام کریں۔ الرٹ جاری ہونے کے بعد پورے شہر میں دھماکوں کی گونج سنی گئی.

جس سے خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم بعد میں ہفتے کی صبح سول ڈیفنس نے خطرہ ٹل جانے کا (All-Clear) سگنل جاری کر دیا۔

اگرچہ تاحال اس دھماکے کی حتمی وجہ سامنے نہیں آئی، تاہم عینی شاہدین کے مطابق فائر فائٹرز آرامکو کے تباہ شدہ فیول ٹینک کی آگ بجھانے میں مصروف دیکھے گئے ہیں۔

رائٹرز اور دیگر عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق، سعودی حکومت کے میڈیا آفس کی جانب سے ان دھماکوں، آگ لگنے کی وجوہات اور رات گئے بھیجے جانے والے ہنگامی فضائی الرٹس کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کا تاحال کوئی باقاعدہ جواب یا تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

صورتحال اب بھی انتہائی سنگین ہے اور سیکیورٹی ادارے تحقیقات میں مصروف ہیں۔ یہ حالیہ کشیدگی یمن کے حوثی دھڑے کی جانب سے سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے حملوں کا نتیجہ ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ یمن کے تنازع کے اثرات براہِ راست سعودی دارالحکومت تک پہنچے ہیں جس نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سات ماہ پرانی جنگ سے متاثرہ عالمی معیشت کو مزید ہلا کر رکھ دیا ہے۔

اس سے قبل بدھ کے روز سعودی عرب نے حوثیوں پر مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کا الزام بھی عائد کیا تھا جسے حوثیوں نے مسترد کر دیا تھا۔

 

Load Next Story