امریکا کی ناکہ بندی بے اثر؛ ایران کی تیل برآمدات 2 سال کی بلند ترین سطح پر

صرف ستمبر کے مہینے میں ملکی تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی 3 ارب ڈالر کا ہندسہ عبور کر گئی

ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک نیا سمندری محدود علاقہ قائم کرنے جا رہا ہے (اے آئی سے بنوائی گئی تصویر)

امریکا کی جانب سے عائد کردہ سخت ترین معاشی پابندیوں اور سمندری ناکہ بندی کے باوجود ایران کی خام تیل کی فروخت گزشتہ دو سالوں کی ریکارڈ ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

ایران کے محکمہ منصوبہ بندی و بجٹ کے مطابق صرف ستمبر کے مہینے میں ملکی تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی 3 ارب ڈالر کا ہندسہ عبور کر گئی جو امریکا کی اقتصادی دباؤ کی پالیسی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری شدید فوجی و اقتصادی کشیدگی کے باوجود تہران نے عالمی منڈی میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

تاہم ایرانی حکام نے اس بات کو صیغہ راز میں رکھا ہے کہ وہ ان سخت ترین بین الاقوامی پابندیوں کو بائی پاس کر کے دنیا بھر میں اپنا تیل کس طرح سپلائی کر رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز میں تجارتی حجم 6 ماہ کی بلند ترین سطح پر: امریکی فوج کا دعویٰ

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی خلیج کے تجارتی راستوں پر ایک اہم رپورٹ جاری کی ہے۔

امریکی فوج کے مطابق، گزشتہ چودہ دنوں کے دوران اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز سے خام تیل، کارگو بحری جہازوں اور مائع قدرتی گیس کی نقل و حمل میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے جو گزشتہ چھ ماہ کا سب سے بڑا تجارتی حجم ہے۔

ایک ارب بیرل تیل کی بحفاظت ترسیل

امریکی کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ خطے میں جاری جنگی خطرات کے باوجود امریکی بحریہ تجارتی جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو ماہ کے مختصر عرصے میں امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز کے راستے ایک ارب بیرل سے زائد خام تیل کی محفوظ ترسیل کو ممکن بنایا ہے تاکہ عالمی منڈی میں توانائی کا بحران پیدا نہ ہو۔

واضح رہے کہ ایک طرف ایران اپنے خفیہ بحری بیڑے کے ذریعے امریکی پابندیوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کر رہا ہے تو دوسری طرف امریکی فوج خطے کے سمندری تجارتی راستوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔



Load Next Story