کراچی؛ فلیٹ سے ملنے والی 5 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل

کیمیکل ایگزامنیشن کے بعد وجہ موت کا حتمی تعین کیا جائے گا

کراچی:

احسن آباد میں رہائشی عمارت کے فلیٹ سے ملنے والی ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں وجہ موت کا تعین نہیں کیا گیا، بلکہ کیمیکل ایگزامنیشن کے بعد وجہ موت کا حتمی تعین کیا جائے گا۔ وجہ موت کے حتمی تعین کے بعد واقعے کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق لاشیں دو سے تین روز پرانی معلوم ہوتی ہیں۔ لاشوں کی شناخت ڈاکٹر عمر، اہلیہ مہوش اور بیٹی زینب کے نام سے کی گئی تھی جبکہ دو بچیوں کی لاشوں کی شناخت تاحال نہ ہو سکی، بچیوں کی عمریں 10 سال سے کم ہیں۔

سائٹ سپر ہائی وے احسن آباد کے علاقے میں واقع لاکھانی ٹوئن ٹاور میں فلیٹ کے اندر سے ڈاکٹر، اسکی بیوی اور تین بچوں کی کئی روز پرانی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا تھا کہ گزشتہ ماہ کی 13 تاریخ کو ڈاکٹر عمر کو کڈنی میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ بہت پریشان تھے اور اسی وجہ سے اسپتال سے استعفا دیا تھا۔

پولیس کے مطابق گھر اندر سے لاک تھا، گھر کی مکمل تلاشی لی گئی لیکن گھر سے موبائل فون نہیں ملا، پولیس فلیٹ کے تمام دروازے توڑ کر داخل ہوئی اور چابی ڈاکٹر عمر کے سرہانے سے ملی تھی۔

ابتدائی تفتیش کے مطابق ڈاکٹر عمر کی اہلیہ نے گزشتہ ہفتہ اپنے گھر کا اوون 10 ہزار روپے میں فروخت کرنے کی کوشش کی لیکن پڑوسی نے اوون نہیں خریدا اور 2ہزار روپے کی مدد کر دی، ڈاکٹر عمر کا آبائی  تعلق بہاول نگر سے تھا۔

ایس ایس پی ایسٹ زبیر نظیر شیخ نے بتایا تھا کہ ڈاکٹر عمر کا ایک بھائی پنجاب میں رہائش پذیر ہے جو لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

Load Next Story