جن کا کام نلکے میں پانی دینا ہے وہی ٹینکرز چلا رہے ہیں، وفاقی وزیر
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ منشیات بیچنے والوں نے اپنا کاروبار بند کرکے پانی کا کام شروع کردیا ہے کیونکہ اُس میں پکڑے جاتے تھے لیکن اس کام میں سینیٹر بن جاتے ہیں۔
کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جن لوگوں کا ٹینکرز کا کاروبار اربوں کا ہوگیا وہ کیسے چاہیں گے کہ پانی نلکوں میں آئے۔ جن کے ہاتھ میں ہے پانی نلکوں میں دینا اور وہی ٹینکر چلا رہے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ٹینکرز کا کام کوئی غریب آدمی، ٹھیلے والا یا پان کی دکان والا نہیں کررہا یہ سب اشرافیہ کے ٹینکر چل رہے ہیں، کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے کہ ہم لوگ کیوں تباہ و برباد ہورہے ہیں، ہمیں پتا ہے ہم کیوں تباہ و برباد ہورہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرے دور میں ورلڈ اکنامک فورم نے کراچی کو دنیا کے 12 تیزی سے ترقی کرنے والے شہروں میں شامل کیا تھا لیکن آج دنیا کے بدترین شہروں میں تیسرے نمبر پر آگیا ہے۔
ترجمان سندھ حکومت کا مصطفیٰ کمال کے بیان پر ردعمل
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کے بیان پر سخت ترین ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کو 'را' کے پے رول پر چلانے والے آج سندھ حکومت کو گورننس کا درس دینے چلے ہیں، جنہوں نے شہر کی سڑکیں معصوموں کے خون سے لال کیں وہ پانی چوری پر مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ مصطفیٰ کمال یاد رکھیں کراچی کا پانی ٹینکر مافیا کو بیچ کر 'کمال فنڈز' بنانے کی تاریخ سب کو یاد ہے، چینی مٹی کے کھلونے کی طرح پارٹیاں بدلنے والے وفاقی وزیر پہلے اپنی سیاسی ساکھ کا بجٹ پیش کریں۔ 'چائنا کٹنگ' کے بانی آج انفراسٹرکچر پر اربوں روپے خرچ کرنے کا جھوٹا راگ الاپ رہے ہیں۔
ترجمان سندھ حکومت نے مطالبہ کیا کہ مصطفیٰ کمال کے بطور میئر کراچی دور کا باقاعدہ فرانزک آڈٹ کرانے کیلئے تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے، ساڑھے 300 ارب کہاں گئے؟ آڈٹ ہوا تو 'کمال' کے سارے کمالات بے نقاب ہو جائیں گے۔