یمنی صدر نے ٹرمپ سے ٹیلیفونک گفتگو میں حوثیوں کیخلاف فوجی مدد کی اپیل کردی

قبل ازیں سعودی عرب بھی امریکی صدر سے حوثیوں پر براہ راست حملے کی درخواست کرچکا ہے

یمنی صدر نے ٹیلیفونک گفتگو میں صدر ٹرمپ سے حوثیوں کیخلاف فوجی تعاون کی اپیل کی تھی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے جس میں یمن میں حوثیوں کی تیزی سے بڑھتی پیش قدمی اور باب المندب کے قریب ان کے بڑھتے اثر و رسوخ پر بات چیت کی گئی۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چار باخبر ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یمنی صدر نے سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کی جانب سے حوثیوں کے خلاف لڑائی میں امریکی صدر سے مدد طلب کی ہے۔

تاہم دو ذرائع جن میں ایک یمنی اور ایک مغربی اہلکار بھی شامل ہے، نے رائٹرز کو مزید بتایا کہ صدر ٹرمپ نے یمنی صدر سے گفتگو کے دوران کسی قسم کی فوجی مدد فراہم کرنے کا کوئی براہ راست وعدہ نہیں کیا۔

یہ رابطہ ایسے وقت ہوا ہے جب حوثی جنگجو رواں ماہ باب المندب کے قریب اہم علاقوں پر تیزی سے قبضہ کرچکے ہیں جو عالمی بحری تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے اور بحیرہ احمر و خلیج عدن کے درمیان رابطے کا مرکزی راستہ سمجھا جاتا ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کی درخواستوں کو بھی مسترد کرچکے ہیں۔

چند روز قبل ہونے والی سعودی ولی عہد سے ٹیلی فونک گفتگو میں امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ہم حوثیوں سے رابطے میں ہیں اور انھوں نے امریکی بحری جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اسرائیلی میڈیا بھی دعویٰ کرچکا ہے کہ سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف فوجی معاونت مانگی تھی لیکن حوثیوں کی جانب سے اسرائیلی جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی پر اسرائیل نے سعودی عرب سے معذرت کرلی تھی۔

خیال رہے کہ امریکی اور اسرائیلی میڈیا کے ان دعوؤں پر سعودی عرب کی جانب سے نہ تو تردید اور نہ ہی تصدیق سامنے آئی تھی۔ 

دوسری جانب آج نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد کی درخواست پر صدر ٹرمپ نے امریکی فوج کو حوثیوں پر حملے کی تیاری کا حکم دیدیا تھا۔

بعد ازاں جب امریکی فوج کی حوثیوں پر تیاری بالکل آخری مرحلے میں تھی، صدر ٹرمپ نے فوجی کارروائی روک دینے کا حکم دیا تھا۔ اس رپورٹ پر پینٹاگون نے بھی تردید یا تصدیق نہیں کی۔

Load Next Story