عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی لیکن امریکا میں ایندھن اب بھی مہنگا

نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکا میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار ایران ٹھہرادیا

پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں اور ذخائر میں کمی سے امریکیوں کے لیے مشکلات میں اضافہ (اے آئی سے بنوائی گئی تصوراتی تصویر)

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل چوتھے روز کم ہوگئیں تاہم امریکا میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں جس کا الزام نائب امریکی صدر نے ایران پر دھر دیا۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق پیر کو برینٹ خام تیل کی قیمت 3.4 فیصد کمی کے بعد 100.34 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی 4.5 فیصد کمی کے بعد 95.78 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔

دونوں کی قیمتیں 8 ستمبر کے بعد کم ترین سطح پر آگئیں۔ قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں بہتری اور ایران تنازع پر سفارتی پیش رفت کی امید قرار دی جارہی ہے۔ 

دوسری جانب امریکا میں ایندھن کی قیمتیں اب بھی بلند ہیں۔ 21 ستمبر کو ملک بھر میں پٹرول کی اوسط قیمت 4.48 ڈالر فی گیلن رہی جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں ایک ڈالر سے زیادہ ہے۔ ڈیزل کی اوسط قیمت ریکارڈ 6.51 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی۔

ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار ایران کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے جہاز رانی میں خوف اور خطرات پیدا کیے جانے سے توانائی کی لاگت بڑھ رہی ہے۔

آج بھی آبنائے ہرمز میں ایک ایل پی جی ٹینکر پر پروجیکٹائل کا ملبہ گرا ہے جس کے بارے میں تاحال کوئی معلومات موصول نہیں ہوسکیں کہ یہ پروجیکٹائل کس نوعیت کا تھا، کہاں سے داغا گیا اور کون ذمہ دار ہے۔

بحری آمد ورفت پر نظر رکھنے والے برطانوی ادارے نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ ایل پی جی ٹینکر اور اس میں موجود عملہ محفوظ ہے، دو افراد کو معمولی زخم آئے ہیں۔ ٹینکر اب اپنی منزل کی جانب سفر جاری رکھے ہوئے۔ 

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب کی بندش کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا جس میں اب کچھ کمی واقع ہورہی ہے اور امید پیدا ہوئی کہ فریقین مذاکرات پر آمادہ ہوجائیں گے۔

 

Load Next Story