ایران اور امریکا کے درمیان 3 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے، صدر ٹرمپ

مذاکرات میں امریکا کی طرف سے جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف نے شرکت کی، عرب میڈیا

فوٹو: فائل

نیویارک:

مشرق وسطیٰ بحران کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی جب امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈلائن پر مذاکرت ہوئے۔

صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا کہ 3 گھنٹے بات چیت بہت مثبت اور تعمیری رہی تاہم انھوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

ٹرمپ کا کہنا تھا حکام میں ایک اور مزید ملاقات ہوگی، عرب میڈیا کے مطابق مذاکرات میں امریکا کی طرف سے جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف نے شرکت کی۔

دریں اثنااقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ یقین ہے مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران سے ڈیل ہوجائیگی۔

انھوں نے ایران کو واضح انتخاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ یا تو ایران واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرے اور ملک کی تعمیرِ نو کی راستہ اختیار کرے، یا پھر اسے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کے خطرے کا سامنا کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ بڑا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں کہ ایران کو تباہ کردیں یا انہیں دوبارہ پنپنے دیں۔

تمام ممالک کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی ہماری مہم میں ہمارا ساتھ دیں،ان کا کہناتھا کہ ایران دنیا میں دہشتگردی کا سب سے بڑا مرکز تھا ، مشرق وسطیٰ میں بدمعاشی کرتا تھا لیکن اب نہیں کرسکتا، کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے۔

امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے ایک ارب بیرل تیل نکلوایا ہے،ایران کی معیشت تباہ ، وہاں مہنگائی 300 فیصد ہوچکی ہے۔

ٹرمپ کا کہناتھا کہ امریکہ آج ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ طاقتور ،مستقبل پہلے سے بہت زیادہ روشن ہے، امریکی فوج دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے اور سرحدیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ 125 سال کے مقابلے میں قتل کی وارداتوں کی شرح کم ترین ہے،غربت کی شرح ریکارڈ سطح تک نیچے آگئی ہے۔

انہوں نے عالمی فوجداری عدالت کو بھی بدمعاش ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ رکن ممالک اس بدمعاش ادارے سے باضابطہ طور پر مستعفی ہو جائیں،کوئی بھی عالمی ادارہ امریکہ پر اپنا ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش نہ کرے، عالمی فوجداری عدالت کو امریکی شہریوں پر دائرہ اختیار حاصل نہیں، کسی عالمی ادارے کو امریکی شہریوں کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے ۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے بعد کیوبا کی باری آنے کا مبہم اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ مغربی نصف کرہ ارض میں اپنے مفادات کیلئے ضرورت پڑنے پر ’’بے مثال فوجی طاقت‘‘ استعمال کرے گا۔

کیوبا کی حکومت کئی دہائیوں سے امریکہ میں شرپسند جماعتوں کمیونسٹ پارٹی یو ایس اے، انٹیفا اور ڈیموکریٹک سوشلسٹس سمیت بعض گروہوں سے رابطے میں ہے۔

ٹرمپ نے ایک بار پھر یوکرین کی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں فریق اب اس جنگ سے ’تنگ آ چکے ہیں، تنازع کا مذاکرات کے ذریعے خاتمہ قریب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی ہتھیاروں میں کمی کی بات درست نہیں، بزدل اور غدار یہی کہیں گے کہ گولہ بارود کم ہوگیا،امریکا اپنے ہتھیاروں کی تعداد پہلے سے زیادہ اونچی سطح تک بڑھانے جارہا ہے۔